مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. ما ذكر مما أعطى الله إبراهيم ﵇ وفضله به
وہ فضیلتیں جو اللہ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائیں اور ان کو ان کے ذریعے فضیلت بخشی
ترقیم عوامۃ: 32483 ترقیم الشثری: -- 33986
٣٣٩٨٦ - حدثنا خالد بن مخلد عن محمد بن ثابت قال: حدثني موسى مولى ابي بكرة قال: حدثني سعيد بن جبير قال: لما (راى) (١) إبراهيم ﵇ (٢) (في المنام) (٣) ذبح إسحاق سار به مسيرة شهر في غداة واحدة حتى اتى المنحر بمنى، فلما صرف الله عنه الذبح قام بكبش فذبحه، ثم رجع به مسيرة شهر في روحة واحدة طويت له الاودية والجبال.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (أري).
(٢) سقط من: [م].
(٣) سقط من: [أ، ب].
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حضرت اسحاق علیہ السلام کا ذبح ہونا دکھلایا گیا تو وہ ان کو ایک دن میں ایک مہینے دور کی مسافت پر لے گئے یہاں تک کہ منی میں نحر کرنے کی جگہ آگئے، جب اللہ نے ذبح کو ان سے دور فرما دیا تو انہوں نے مینڈھے کو ذبح کردیا، پھر ایک شام میں ایک مہینے کی مسافت سے واپس آگئے، ان کے لئے وادیوں اور پہاڑوں کو لپیٹ دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33986]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33986، ترقيم محمد عوامة 32483)
ترقیم عوامۃ: 32484 ترقیم الشثری: -- 33987
٣٣٩٨٧ - حدثنا معتمر عن ابيه عن قتادة عن ابي سليمان عن كعب قال: ما ⦗٤٩٣⦘ احرقت النار من إبراهيم إلا (وثاقه) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (أوثاقه).
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رسّی کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33987]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33987، ترقيم محمد عوامة 32484)
ترقیم عوامۃ: 32485 ترقیم الشثری: -- 33988
٣٣٩٨٨ - حدثنا معاوية بن هشام قال: اخبرنا سفيان عن زيد بن اسلم عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن ابيه قال: قال موسى: يا رب: ذكرت إبراهيم وإسحاق ويعقوب ثم اعطيتهم ذاك، قال: إن إبراهيم لم يعدل (بي) (١) شيء إلا اختارني، وإن إسحاق جاد لي بنفسه فهو لما سواها اجود، وإن يعقوب لم (ابتله) (٢) ببلاء إلا زاد بي حسن ظن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (في).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (ابتليه).
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب! آپ نے حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب۔ کا ذکر فرمایا ہے، آپ نے ان کو یہ فضیلت کیسے عطا فرمائی ہے؟ اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم کو جس چیز کے ذریعے بھی مجھ سے پھیرنے کی کوشش کی گئی انہوں نے مجھے اختیار کیا، اور اسحاق نے اپنے نفس کو میرے لئے قربان کیا، تو وہ دوسری چیزوں کو زیادہ قربان کرنے والے ہیں، اور یعقوب کو میں نے جس طرح بھی آزمایا میرے ساتھ ان کا حسن ظن پہلے سے بڑھ گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33988]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33988، ترقيم محمد عوامة 32485)
ترقیم عوامۃ: 32486 ترقیم الشثری: -- 33989
٣٣٩٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة عن مجاهد ﴿واذن في الناس بالحج﴾ [الحج: ٢٧] ، قال: (١) امر إبراهيم ان يؤذن بالحج (فقام فقال) (٢) : يا ايها الناس اجيبوا ربكم، (فاجابوه) (٣) : لبيك اللهم لبيك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (لما).
(٢) في [جـ، م]: (قام فقال).
(٣) في [ب]: (فأجابوا).
حضرت مجاہد { وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ } کے تحت فرماتے ہیں ل کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو حج کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تو وہ کھڑے ہوئے اور کہا اے لوگو! اپنے رب کے حکم پر لبیک کہو، چناچہ انہوں نے جواب دیا لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33989]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33989، ترقيم محمد عوامة 32486)
ترقیم عوامۃ: 32487 ترقیم الشثری: -- 33990
٣٣٩٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن ابي نجيح عن مجاهد ﴿وإذ ابتلى إبراهيم ربه بكلمات﴾ [البقرة: ١٢٤] ، قال: ابتلي بالآيات التي بعدها.
مجاہد ایک دوسری سند سے { وَإِذَ ابْتَلَی إبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی جب ان کو ان آیات کے ذریعے مبتلا کیا گیا جو اس آیت کے بعد ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33990]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33990، ترقيم محمد عوامة 32487)
ترقیم عوامۃ: 32488 ترقیم الشثری: -- 33991
٣٣٩٩١ - حدثنا وكيع عن يونس عن الشعبي ﴿وإذ ابتلى إبراهيم ربه بكلمات﴾ قال: منهن الختان.
حضرت شعبی نے { وَإِذَ ابْتَلَی إبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ } کے تحت فرمایا کہ ان کلمات میں ایک ختنہ بھی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33991]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33991، ترقيم محمد عوامة 32488)
ترقیم عوامۃ: 32489 ترقیم الشثری: -- 33992
٣٣٩٩٢ - حدثنا عبد الاعلى عن داود عن عكرمة عن ابن عباس ﴿وإذ ابتلى ⦗٤٩٤⦘ إبراهيم ربه بكلمات فاتمهن﴾ [البقرة: ١٢٤] ، قال: لم (يبتل) (١) احد بهذا الدين فاقامه إلا إبراهيم ﵇ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يبل).
(٢) ضعيف؛ رواية داود عن عكرمة ضعيفة.
عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { وَإِذَ ابْتَلَی إبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ } کے تحت نقل کرتے ہیں، فرمایا کہ کوئی شخص ایسا نہیں جس کو اس دین میں آزمائش میں ڈالا گیا ہو اور وہ اس آزمائش میں پورا اترا ہو سوائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33992]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33992، ترقيم محمد عوامة 32489)
ترقیم عوامۃ: 32490 ترقیم الشثری: -- 33993
٣٣٩٩٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن فراس عن الشعبي عن عبد الله ابن عمرو قال: اول كلمة قالها: إبراهيم حين القي في النار ﴿حسبنا الله ونعم الوكيل﴾ (١) [آل عمران: ١٧٣] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق في التفسير ١/ ١٤٠، وابن جرير ٤/ ١٨٢.
شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب سے پہلا کلمہ جو ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں گرنے کے بعد کہا وہ حَسْبُنَا اللَّہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33993، ترقيم محمد عوامة 32490)
ترقیم عوامۃ: 32491 ترقیم الشثری: -- 33994
٣٣٩٩٤ - حدثنا عبد الله بن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد ان إبراهيم اول الناس اضاف الضيف (١) ، واول الناس اختتن، واول الناس قلم اظفاره، وجز شاربه واستحد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ب]: (وأول الناس).
حضرت سعید سے روایت ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مہمان کی مہمان نوازی کی، اور سب سے پہلے ختنہ کیا، اور سب سے پہلے ناخن تراشے، اور مونچھیں کتروائیں اور زیر ناف بال صاف کیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33994]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33994، ترقيم محمد عوامة 32491)
ترقیم عوامۃ: 32492 ترقیم الشثری: -- 33995
٣٣٩٩٥ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد ان إبراهيم ﵇ اول من راى الشيب فقال: يا رب ما هذا؟ قال: الوقار قال: يا رب زدني وقارا.
یحییٰ بن سعید حضرت سعید سے ہی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے سفید بالوں کو دیکھا، عرض کیا اے میرے رب! یہ کیا ہے؟ اللہ نے فرمایا یہ وقار ہے آپ نے عرض کیا اے میرے رب! میرے وقار میں اضافہ فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33995]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33995، ترقيم محمد عوامة 32492)