🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. (ما) ذكر في تبع اليماني
تبع الیمانی کے بارے میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32585 ترقیم الشثری: -- 34090
٣٤٠٩٠ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن ابي مجلز قال: جاء عبد الله بن عباس إلى ابن سلام فقال: إني اريد ان اسالك عن ثلاث، قال: تسالني وانت تقرا القرآن، قال: نعم، قال: فسل، قال: اخبرني عن تبع ما كان؟ وعن (عزير) (١) ما كان؟ وعن سليمان لم (تفقد) (٢) الهدهد؟ فقال: اما تبع فكان رجلا من العرب فظهر على الناس (وسبى) (٣) فتية من (الاحبار) (٤) (فاستدخلهم) (٥) (وكان) (٦) يحدثهم ويحدثونه فقال قومه: إن تبعا قد ترك دينكم (وتابع) (٧) الفتية، فقال تبع للفتية: قد تسمعون ما قال هؤلاء، قالوا: بيننا وبينهم النار التي تحرق الكاذب وينجو منها الصادق، قالوا: نعم، (فقال) (٨) تبع للفتية: ادخلوها، قال: فتقلدوا مصاحفهم فدخلوها فانفرجت لهم حتى قطعوها ثم قال لقومه: (ادخلوها) (٩) ، فلما دخلوها سفعت النار وجوههم فنكصوا، فقال: لتدخلنها، قال فدخلوها فا. نفرجت لهم، حتى إذا توسطوها (احاطت) (١٠) بهم فاحرقتهم، قال: فاسلم تبع وكان رجلا صالحا. ⦗٥٣٩⦘ واما عزير فإن بيت المقدس لما خرب ودرس العلم (ومزقت) (١١) (التوراة) (١٢) كان يتوحش في الجبال، فكان يرد عينا يشرب منها، قال: فوردها يوما فإذا امراة قد تمثلت له، فلما رآها نكص، فلما اجهده العطش اتاها فإذا هي تبكي، قال: ما يبكيك؟ قالت: ابكي على ابني، قال: كان ابنك يرزق؟ قالت: لا، قال: كان يخلق؟ قالت: لا، قال: فلا تبكين عليه، قالت: فمن انت؟ اتريد قومك؟ ادخل (هذه) (١٣) العين فإنك ستجدهم، قال: فدخلها، قال: فكان كلما دخلها زيد في علمه حتى انتهى إلى قومه وقد رد الله إليه علمه، فاحيى لهم (التوراة) (١٤) واحيى لهم العلم، قال: فهذا عزير. واما سليمان فإنه نزل منزلا في (سفر) (١٥) فلم يدر ما بعد الماء منه، فسال من يعلم علمه فقالوا: الهدهد فهناك تفقده (١٦) (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عزيز).
(٢) في [أ، ب]: (يفقد).
(٣) في [هـ]: (وشاء).
(٤) في [أ، ب]: (الأجناد)، وفي [هـ]: (الأخيار).
(٥) في [أ، ب]: (ما سيدخلهم).
(٦) في [م]: (فكان).
(٧) في [هـ]: (وبايع).
(٨) في [أ، ب، هـ]: (قال).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [أ، ب، جـ]: (حاطت).
(١١) في [هـ]: (وحرقت).
(١٢) في [ب]: (التورية).
(١٣) في [أ، ب، هـ]: (هذا).
(١٤) في [أ، ب]: (التورية).
(١٥) في [م]: (سفره).
(١٦) صحيح؛ أخرجه ابن جرير ٢٦/ ١٥٤.
(١٧) جاء هنا في [هـ]: (تم بحمد اللَّه الجزء الحادي عشر، ويليه إن شاء اللَّه الجزء الثاني عشر، وأوله باب: ما ذكر في أبي بكر الصديق ﵁ من كتاب الفضائل).

ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عبد اللہ بن سلام کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ سے تین باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ آپ مجھ سے سوال کر رہے ہیں حالانکہ آپ خود قرآن پڑھتے ہیں، انہوں نے فرمایا جی ہاں! حضرت نے فرمایا پوچھیے، فرمایا کہ ایک تُبَّع کے بارے میں کہ کون تھے؟ اور عزیر کے بارے میں کہ کون تھے؟ اور سلیمان علیہ السلام کے بارے میں کو انہوں نے ہد ہد کو کیوں تلاش کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ تُبَّع عرب کے ایک آدمی تھے، لوگوں پر غالب آگئے اور بہت سے عیسائی علماء کو پکڑ لیا اور ان سے بات چیت کرتے، ان کی قوم کہنے لگی کہ تبّع نے تمہارا دین چھوڑ دیا اور غلاموں کی اتباع کرلی، چناچہ تُبَّع نے ان غلاموں سے کہا کہ تم سن رہے ہو کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان آگ فیصلہ کرے گی اور وہ جھوٹے کو جلا دے گی اور سچا نجات پا جائے گا، وہ کہنے لگے ٹھیک ہے، چناچہ تبّع نے ان غلاموں سے کہا کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ، چناچہ وہ اس میں داخل ہوئے تو آگ نے ان کے چہروں کو جھلسا دیا، اورو ہ واپس پلٹ گئے، وہ کہنے لگا کہ تمہیں داخل ہونا پڑے گا، چناچہ وہ اس میں داخل ہوئے، جب اس کے درمیان پہنچ گئے تو آگ نے ان کو گھیر کر جلا دیا، اس پر تُبَّع اسلام لے آئے اور وہ نیک آدمی تھے۔ اور عزیر تو ان کا قصہ یہ ہے کہ جب بیت المقدس ویران ہوگیا اور علم مٹ گیا اور توراۃ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا، تو وہ پہاڑوں میں اکیلے رہتے تھے، اور ایک چشمے پر جا کر اس سے پانی پیا کرتے تھے، ایک دن اس پر آئے تو ایک عورت ان کو دکھائی دی، جب آپ نے اس کو دیکھا تو واپس پلٹ گئے، جب آپ کو پیاس نے تکلیف میں ڈالا تو آپ دوبارہ آئے، دیکھا کہ عورت رو رہی ہے، آپ نے فرمایا کہ تم کس پر رو رہی ہو؟ کہنے لگی میں اپنے بیٹے پر رو رہی ہوں، آپ نے فرمایا کیا وہ تمہیں رزق دیتا تھا؟ کہنے لگی نہیں، آپ نے فرمایا کیا اس نے کچھ پیدا کیا تھا؟ کہنے لگی نہیں، آپ نے فریایا کہ پھر تم اس پر مت رو، وہ کہنے لگی آپ کون ہیں؟ کیا آپ اپنی قوم کے پاس جانا چاہتے ہیں؟ اس چشمے میں داخل ہوجائیے آپ ان کے پاس پہنچ جائیں گے، چناچہ آپ اس میں داخل ہوگئے، آپ جتنا داخل ہوتے جاتے آپ کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا، یہاں تک کہ آپ اپنی قوم کے پاس پہنچ گئے، اور اللہ نے آپ کا علم آپ پر لوٹا دیا پھر آپ نے توراۃ کا احیاء کیا، اور علم کو زندہ کیا، اس کے بعد عبداللہ بن سلام نے فرمایا یہ حضرت عزیر کا قصہ ہے۔ رہے حضرت سلیمان علیہ السلام، تو وہ ایک جگہ سفر میں ٹھہرے اور ان کو پانی کی دوری کا علم نہ تھا، آپ نے پوچھا کہ اس کا کس کو علم ہے؟ لوگوں نے بتادیا کہ ہد ہد کو، اس وقت آپ نے اس کو تلاش کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34090]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34090، ترقيم محمد عوامة 32585)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں