🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. ما ذكر في جعفر بن أبي طالب ﵁
سیدنا حمزہ بن عبد المطلب اسد اللہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32870 ترقیم الشثری: -- 34380
٣٤٣٨٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الاجلح عن الشعبي قال: اتي رسول الله ﷺ حين افتتح خيبر فقيل له: قدم جعفر من عند النجاشي، فقال:"ما ادري بايهما انا افرح، بقدوم جعفر، او بفتح خيبر"، ثم تلقاه والتزمه وقبل ما بين عينيه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٣٦٣)، والطبراني (١٤٦٩)، وابن سعد ٤/ ٣٤، والطحاوي ٤/ ٢٨١، وقد ورد من حديث الشعبي عن جابر، أخرجه الحاكم ٢/ ٦٨١، والبيهقي في الدلائل ٤/ ٢٤٦، وورد من حديث الشعبي عن عبد اللَّه بن جعفر عن أبيه، أخرجه الطبراني (١٤٧٨)، وابن قانع ١/ ١٥٢، والبيهقي في الشعب (٨٩٦٨).
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نجاشی کے پاس سے آنے کی خبر سنائی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ مجھے ان دونوں میں سے کس بات کی زیادہ خوشی ہے۔ جعفر رضی اللہ عنہ کے آنے کی یا خیبر کے فتح ہونے کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور ان کو اپنے سے چمٹا لیا پھر دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ان کا بوسہ لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34380]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34380، ترقيم محمد عوامة 32870)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32871 ترقیم الشثری: -- 34381
٣٤٣٨١ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا زكريا عن عامر ان عليا تزوج اسماء (ابنة) (١) عميس فتفاخر ابناها محمد بن جعفر ومحمد بن ابي بكر فقال كل واحد منهما: انا اكرم منك، وابي خير من ابيك، فقال لها علي: اقضي بينهما، (فقالت) (٢) : ما رايت شابا من العرب خيرا من جعفر، وما رايت كهلا كان خيرا من ابي بكر، فقال لها علي: ما تركت لنا شيئا، ولو قلت غير هذا لمقتك، (فقالت) (٣) : (والله) (٤) إن ثلاثة ⦗١٠٣⦘ انت (اخسهم) (٥) لخيار (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بنت).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [جـ، م].
(٥) في [أ، ب]: (أحسنهم).
(٦) مرسل، عامر الشعبي تابعي، أخرجه ابن سعد ٤/ ٤١، و ٨/ ٢٨٤.

حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے شادی کرلی، تو حضرت اسماء کے بیٹے محمد بن جعفر اور محمد بن ابی بکر آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے۔ ان ددنوں میں سے ایک نے کہا: میں تجھ سے زیادہ معزز ہوں اور میرا باپ تیرے باپ سے افضل ہے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ان دونوں کے درمیان فیصلہ کروں گا۔ اتنے میں حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے عرب کا کوئی جوان جعفر رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ اور میں نے کوئی بوڑھا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو نے ہمارے لیے کوئی بات ہی نہیں چھوڑی۔ اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور جواب دیتی تو میں تم سے بہت سخت ناراض ہوتا۔ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اور تم ان تینوں میں سب سے کم بہتر ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34381]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34381، ترقيم محمد عوامة 32871)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں