مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. ما قالوا: في المحارب أو غيره يؤمن: (أيؤخذ) بما أصاب في حال حربه؟
جن لوگوں نے یوں کہا: لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا؟
ترقیم عوامۃ: 33453 ترقیم الشثری: -- 34980
٣٤٩٨٠ - حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم قال: كان اهل العلم (يقولون) (١) : إذا آمن المحارب لم يؤخذ بشيء كان اصابه في حال حربه إلا ان يكون شيئا اصابه قبل ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يقول).
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء فرمایا کرتے تھے: کہ جب لڑنے والے کو امان دے دی جائے تو اس سے وہ مال نہیں لیا جائے گا جو اس کو حالت جنگ میں ملا ہو۔ مگر اس سے وہ مال لے لیا جائے گا جو اس کو جنگ سے قبل ملا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34980]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34980، ترقيم محمد عوامة 33453)
ترقیم عوامۃ: 33454 ترقیم الشثری: -- 34981
٣٤٩٨١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن ابيه في الرجل يصيب الحدود، ثم يجيء تائبا، قال: تقام عليه الحدود.
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا؛ جو حدود کو پہنچ جائے پھر وہ توبہ کر کے آجائے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس شخص پر حدود قائم کی جائیں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34981]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34981، ترقيم محمد عوامة 33454)
ترقیم عوامۃ: 33455 ترقیم الشثری: -- 34982
٣٤٩٨٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيدة عن إبراهيم في الرجل يجني الجناية فيلحق بالعدو فيصيبهم امان، قال: يؤمنون إلا ان يعرف شيء بعينه فيؤخذ منهم، فيرد على اصحابه، واما هو فيؤخذ بما كان جنى قبل ان يلحق بهم.
حضرت عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص جرم کرے اور دشمنوں سے جا ملے پھر ان لوگوں کو امان ملی۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: ان کو امان دے دی جائے گی مگر یہ کہ ان کے پاس موجود کسی چیز کو پہچان لیا گیا تو وہ ان سے لے لی جائے گی اور مالکوں پر لوٹا دی جائے گی۔ اور وہ چیز لی جائے گی جو اس نے دشمنوں سے ملنے سے پہلے جنایت کے ذریعہ حاصل کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34982]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34982، ترقيم محمد عوامة 33455)
ترقیم عوامۃ: 33456 ترقیم الشثری: -- 34983
٣٤٩٨٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم في رجل اصاب حدا، ثم خرج محاربا، ثم طلب امانا فامن، قال: يقام عليه الحد الذي كان اصابه.
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا: جس کو حد پہنچے پھر وہ لڑائی کر کے بھاگ جائے اور پھر امان طلب کرے اور اس کو امان بھی دے دی جائے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس نے جو کام کیا تھا اس کی وجہ سے اس پر حد قائم کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34983]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34983، ترقيم محمد عوامة 33456)
ترقیم عوامۃ: 33457 ترقیم الشثری: -- 34984
٣٤٩٨٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم في الرجل إذا قطع الطريق واغار ثم رجع تائبا اقيم عليه الحد، وتوبته فيما بينه وبين ربه.
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت ابراہیم رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں جو ڈاکہ مارے اور غارت گری کرے پھر توبہ کر کے لوٹ آئے، یوں ارشاد فرمایا: اس پر حد قائم کی جائے گی اور اس کی توبہ اس کے اور رب کے درمیان ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34984]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34984، ترقيم محمد عوامة 33457)
ترقیم عوامۃ: 33458 ترقیم الشثری: -- 34985
٣٤٩٨٥ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا جرير بن حازم قال: حدثني قيس بن سعد ان عطاء كان يقول: لو ان رجلا من المسلمين قتل رجلا ثم كفر فلحق بالمشركين فكان فيهم، ثم رجع تائبا قبلت توبته من شركه، واقيم عليه القصاص، ولو انه ⦗٢٧٠⦘ لحق بالمشركين ولم يقتل فكفر ثم قاتل المسلمين فقتل منهم ثم جاء تائبا قبل منه، ولم يكن عليه شيء.
حضرت قیس بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ یوں فرمایا کرتے تھے: اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی آدمی کو قتل کر دے پھر کفر اختیار کرلے اور مشرکین سے جا ملے اور ان میں رہے۔ پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آئے۔ شرک سے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اور اس پر حدِّ قصاص قائم کی جائے گی۔ اور اگر کوئی مشرکین سے جا ملے اس حال میں کہ اس نے قتل تو نہیں کیا صرف کفر اختیار کیا پھر مسلمانوں سے قتال کیا اور کچھ مسلمانوں کو شہید بھی کیا پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آیا تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34985]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34985، ترقيم محمد عوامة 33458)