مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
36. ما قالوا: في المحارب إذا قتل وأخذ المال
اس لڑنے والے کا بیان جو قتل کر دے اورمال لے لے
ترقیم عوامۃ: 33462 ترقیم الشثری: -- 34990
٣٤٩٩٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عطية عن ابن عباس في قوله: ﴿إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الارض فسادا ان يقتلوا او ⦗٢٧٢⦘ يصلبوا او تقطع ايديهم وارجلهم من خلاف﴾ حتى ختم الآية. فقال: إذا حارب الرجل وقتل واخذ المال قطعت يده ورجله من خلاف وصلب، وإذا قتل ولم ياخذ المال قتل، وإذا اخذ المال ولم يقتل قطعت يده ورجله من خلاف، وإذا لم يقتل ولم ياخذ المال نفي (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، وعطية العوفي ضعيف.
حضرت عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ رب العزت کے اس قول کی تلاوت فرمائی: آیت: ترجمہ: صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مکمل آیت پڑھی۔ اور ارشاد فرمایا: جب آدمی لڑائی کرے اور قتل کر دے اور مال بھی لے لے تو اس کا ایک ہاتھ اور اس کا ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے گا اور سولی دی جائے گی۔ اور جب کوئی قتل کر دے اور مال نہ لے تو اس کو قتل کیا جائے گا اور جب مال لے لے اور قتل نہ کرے تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے گا۔ اور جب نہ قتل کرے اور نہ ہی مال لے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34990]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34990، ترقيم محمد عوامة 33462)
ترقیم عوامۃ: 33463 ترقیم الشثری: -- 34991
٣٤٩٩١ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن ابي مجلز في هذه الآية: ﴿إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله﴾ قال: إذا قتل واخذ المال قتل، وإذا اخذ المال واخاف السبيل صلب، وإذا قتل ولم يعد ذلك (قتل، وإذا اخذ المال لم يعد ذلك) (٢) قطع، وإذا افسد نفي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ]: (جدير).
(٢) سقط من: [جـ، ط].
حضر ت عمران بن حدیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز رحمہ اللہ نے اس آیت کے بارے میں: ترجمہ: صرف یہی جزاء ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے جنگ کرتے ہیں… آپ رحمہ اللہ نے یوں ارشاد فرمایا: جب یہ آدمی قتل کرے اور مال بھی لے لے۔ تو ا س کو قتل کردیا جائے گا اور جب مال چھین لے اور راستہ کو پرخطر بنا دے تو اس کو سولی دی جائے گی۔ اور جب قتل کرے اور اس کام کو دوبارہ نہ لوٹائے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ اور جب مال چھین لے اور یہ قتل نہ کرے تو اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے۔ اور جب فساد پھیلائے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34991]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34991، ترقيم محمد عوامة 33463)
ترقیم عوامۃ: 33464 ترقیم الشثری: -- 34992
٣٤٩٩٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ابيه عن حماد عن إبراهيم: ﴿إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله﴾ قال: إذا خرج (فاخاف) (١) السبيل واخذ المال قطعت يده ورجله من خلاف، وإذا اخاف السبيل ولم ياخذ المال نفي، (وإذا) (٢) قتل قتل، وإذا اخاف السبيل واخذ المال وقتل صلب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (وأخاف).
(٢) في [أ]: (فإذا).
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے اس آیت: {إنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ } کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا: جب وہ نکل جائے اور راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال چھین لے۔ تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ مخالف سمت سے کاٹ دی جائے گی۔ اور جب وہ راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال نہ چھینے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ اور جب وہ قتل بھی کر دے تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا اور جب وہ راستہ کو پُر خطر بنا دے اور مال چھین لے، اور قتل کر دے تو اس کو سولی دی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34992]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34992، ترقيم محمد عوامة 33464)
ترقیم عوامۃ: 33465 ترقیم الشثری: -- 34993
٣٤٩٩٣ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: حدثت عن سعيد بن جبير قال: من حارب فهو محارب قال سعيد: (فإن) (١) اصاب دما قتل، وإن (اصاب) (٢) ⦗٢٧٣⦘ دما ومالا صلب، فإن الصلب هو اشد، وإذا اصاب مالا ولم يصب دما قطعت يده ورجله لقوله: ﴿او تقطع ايديهم وارجلهم من خلاف﴾ فإن (تاب) (٣) فتوبته فيما بينه وبين الله ويقام عليه الحد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (كان).
(٢) في [أ، ب]: (أصيب).
(٣) في [ط، هـ]: (مات).
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سعیدبن جبیر رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: جو لڑائی کرے وہ محارب ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ خون کر دے تو اس کو قتل کیا جائے گا اور اگر وہ خون کر دے اور مال بھی چھین لے تو اس کو صولی دی جائے گی پس بیشک صولی دینا زیادہ سخت ہے، اور جب وہ مال چھین لے اور خون نہ کرے تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ کاٹ دی جائے گی اللہ رب العزت کے اس قول کی وجہ سے: ترجمہ: یا ان کے ہاتھ اور ان کی ٹانگیں مخالف سمت سے کاٹ دی جائیں گی۔ پس اگر وہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہوگی اور اس پر حد قائم کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34993، ترقيم محمد عوامة 33465)
ترقیم عوامۃ: 33466 ترقیم الشثری: -- 34994
٣٤٩٩٤ - حدثنا زيد بن حباب عن ابي هلال عن قتادة عن مورق العجلي قال: إذا اخذ المحارب فرفع إلى الإمام، فإن كان اخذ المال ولم يقتل [قطع ولم يقتل، وإن (كان) (١) اخذ المال وقتل (قتل) (٢) ] (٣) وصلب، وإن كان لم ياخذ المال ولم يقتل (٤) (لم يقطع) (٥) ، (٦) وإن كان لم ياخذ المال ولم يقتل و (شاق) (٧) المسلمين نفي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [ط، هـ]: (قطع).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤) في [جـ]: زيادة (قطع).
(٥) في [جـ]: (لم يقتل).
(٦) في [جـ]: زيادة (وإن كان أخذ المال وقتل قتل وصلب، وإن كان لم يأخذ ولم يقتل لم يقطع).
(٧) في [جـ، هـ]: (ساق).
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مورّق عجلی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: جب لڑائی کرنے والے کو پکڑ لیا جائے تو اس کو امیر کے پاس لے جایا جائے گا، پس اگر اس نے مال چھینا ہو اور قتل نہ کیا ہو تو اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں گے اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا اور اگر اس نے مال چھینا تھا اور قتل بھی کردیا تھا تو اس کو قتل کیا جائے گا اور سولی دی جائے گی، اور اگر اس نے مال نہیں چھینا اور قتل نہیں کیا تو اس کے ہاتھ اور پاؤں بھی نہیں کاٹے جائیں گے اور اگر اس نے مال نہیں چھینا اور نہ قتل کیا صر ف مسلمانوں کو تنگ کیا ہو تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34994]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34994، ترقيم محمد عوامة 33466)