🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

188. في الرجل يخلي عن دابته فيأخذها الرجل
کوئی شخص اپنا جانور چھوڑ دے اور دوسرا شخص اس کو پکڑ کر پال لے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34365 ترقیم الشثری: -- 35929
٣٥٩٢٩ - حدثنا وكيع بن الجراح قال: ثنا هشام الدستوائي عن عبيد الله بن حميد (بن) (١) عبد الرحمن الحميري عن الشعبي قال: قال رسول الله ﷺ:"من ⦗٥٣٢⦘ وجد دابة (بمهلكة) (٢) فهي لمن احياها" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (تهلك)، وفي [جـ]: (بمهلك).
(٣) مرسل، الشعبي تابعي، أخرجه أبو داود (٣٥٢٤)، والدارقطني ٣/ ٦٨، وأخرجه البيهقي ٦/ ١٩٨.

حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے جانور کو ہلاکت والی جگہ پر چھوڑ دے تو جو اس کو پکڑ کر زندہ کر دے (اس کو پال لے) وہ اسی کا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35929]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35929، ترقيم محمد عوامة 34365)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34366 ترقیم الشثری: -- 35930
٣٥٩٣٠ - حدثنا ابو اسامة عن عثمان بن غياث عن الحسن في الرجل يترك الدابة في ارض القفر قال: هي لمن احياها.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنا جانور بےآب وگاہ زمین میں چھوڑ دے تو جو اس کو پال لے اور چارہ وغیرہ کھلائے وہ اس کا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35930]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35930، ترقيم محمد عوامة 34366)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34367 ترقیم الشثری: -- 35931
٣٥٩٣١ - حدثنا اسباط بن محمد عن مطرف عن عامر في رجل سيب دابته فاخذها رجل (١) فجاء صاحبها فخاصمه إلى عامر، فقال: هذا امر قد قضي فيه (قبل) (٢) اليوم، إن كان سيبها في (خوف و) (٣) (مفازة) (٤) فهو احق بدابته، وإن كان سيبها في كلا وامن فلا حق له فيها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (قال).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (جوف).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (فحازه).

حضرت عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنا جانور آزاد چھوڑ دیا تو اس کو دوسرے آدمی نے پکڑ لیا، پھر اس کا مالک آیا اور حضرت عامر کے پاس جھگڑا لے کر حاضر ہوا۔ حضرت عامر نے فرمایا یہ ایسا معاملہ ہے جس کے متعلق آج کے دن سے قبل فیصلہ ہوچکا ہے اگر تو اس نے خوف وغیرہ کی وجہ سے اپنا جانور چھوڑا تھا تو پھر یہ اپنے جانور کا زیاد ہ حقدار ہے، اور اگر چارے کی وجہ سے چھوڑا ہے تو پھر اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35931]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35931، ترقيم محمد عوامة 34367)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں