🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. (كلام أبي إدريس)
حضرت ابو ادریس کے آثار
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36520 ترقیم الشثری: -- 38108
٣٨١٠٨ - حدثنا ابن فضيل عن ضرار بن مرة قال: لقيت الضحاك بخراسان ⦗١٣⦘ وعلي فرو لي خلق، فقال الضحاك: (قال ابو إدريس) (١) : قلب نقي في ثياب دنسة، خير من قلب دنس في ثياب نقية.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
حضرت ضرار بن مرہ کہتے ہیں کہ میں خراسان میں حضرت ضحاک سے ملا، اس وقت میرے بدن پر پرانالباس تھا۔ حضرت ضحاک نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت ابو ادریس فرماتے ہیں کہ میلے کپڑوں میں موجود صاف دل صاف کپڑوں میں موجود میلے دل سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38108]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38108، ترقيم محمد عوامة 36520)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36521 ترقیم الشثری: -- 38109
٣٨١٠٩ - حدثنا عبيدة بن حميد عن الاعمش عن طلحة (اليامي) (١) عن ابي إدريس رجل من اهل اليمن قال: كان يقول: اللهم اجعل نظري عبرا، وصمتي (تفكرا) (٢) ، ومنطقي (ذكرا) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (اليافي).
(٢) في [أ، ب]: (تفكر).
(٣) في [أ، ب]: (ذكر).

حضرت ابو ادریس دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! میرے دیکھنے کو عبرت، میری خاموشی کو تفکر اور میری گویائی کو ذکر بنا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38109]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38109، ترقيم محمد عوامة 36521)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36522 ترقیم الشثری: -- 38110
٣٨١١٠ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا محمد بن عمرو عن صفوان بن سليم (قال: قال ابو مسلم) (١) الخولاني: كان الناس ورقا لا شوك فيه، وإنهم اليوم شوك لا ورق فيه، إن ساببتهم (سبوك) (٢) ، وإن ناقدتهم ناقدوك، وإن (تركتهم) (٣) لم يتركوك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [هـ]: (سابوك).
(٣) في [س]: (تركتم).

حضرت ابو مسلم خولانی فرماتے ہیں کہ لوگ ایک ایسے پتے کی طرح تھے جس میں کوئی کانٹا نہ ہو۔ آج وہ ایک ایسے کانٹے کی طرح ہیں جس میں کوئی پتہ نہیں ہے۔ اگر تم انہیں گالی دو گے تو وہ تمہیں خوب گالیاں دیں گے اور اگر تم ان کے عیب بیان کرو گے تو وہ تمہاری خوب برائی بیان کریں گے اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38110، ترقيم محمد عوامة 36522)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36523 ترقیم الشثری: -- 38111
٣٨١١١ - حدثنا سعيد بن شرحبيل قال: اخبرنا ليث بن سعد عن عقيل عن ابن شهاب قال: جلست ذات يوم إلى ابي إدريس الخولاني -وهو يقص- فقال: الا اخبركم بمن كان اطيب الناس طعاما، (فلما راى الناس قد نظروا إليه قال: إن يحيى ابن زكريا كان اطيب الناس طعاما) (١) ، إنما كان ياكل مع الوحش كراهية ان يخالط الناس في معائشهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابو ادریس خولانی کی مجلس میں بیٹھا وہ کوئی واقعہ بیان کررہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جس کا کھانا تمام لوگوں میں زیادہ پاکیز ہ تھا؟ جب لوگوں نے ان کی طرف دیکھا تو فرمانے لگے کہ حضرت یحییٰ بن زکریا کا کھانا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ تھا۔ وہ تنہائی میں کھاتے تھے کیونکہ انہیں یہ بات پسند نہ تھی کہ وہ لوگوں کے ساتھ ان کی زندگی میں شریک ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38111، ترقيم محمد عوامة 36523)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36524 ترقیم الشثری: -- 38112
٣٨١١٢ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: قال ابو مسلم الخولاني: ما عملت عملا ابالي من رآني إلا حاجتي إلى اهلي، وحاجتي إلى الغائط.
حضرت ابو مسلم خولانی فرماتے ہیں کہ میں نے دو اعمال کے سوا کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کے بارے میں مجھے اس بات کی پروا ہو کہ کوئی دیکھ لے گا ایک اپنی بیوی سے حاجت کا پورا کرنا اور دوسرا بیت الخلاء جانا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38112]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38112، ترقيم محمد عوامة 36524)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36525 ترقیم الشثری: -- 38113
٣٨١١٣ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن ايوب عن (كاتب) (١) ابي قلابة عن ابي إدريس قال: لا يهتك الله ستر عبد في قلبه مثقال ذرة من خير.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، والصواب حذفها كما تقدم ٩/ ٨٦ برقم [٢٨٢٦٩]، وانظر: حلية الأولياء ٥/ ١٢٤، والتمهيد لابن عبد البر ٥/ ٣٤١.
حضرت ابو ادریس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کی پردہ دری نہیں فرماتے جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38113]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38113، ترقيم محمد عوامة 36525)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36526 ترقیم الشثری: -- 38114
٣٨١١٤ - حدثنا جرير عن عبد الملك بن (عمير) (١) عن ابي مسلم الخولاني قال: اربع لا (يقبلن) (٢) في اربع: مال اليتيم، والغلول، والخيانة، والسرقة: لا يقبلن في حج ولا عمرة ولا جهاد، وذكر حرفا آخر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (جبير).
(٢) في [ب]: (تقبلن).

حضرت ابو مسلم خولانی فرماتے ہیں کہ چار چیزیں چار چیزوں میں قابل قبول نہیں یتیم کا مال، دھوکہ، خیانت اور چوری، حج، عمرے، جہاد اور ایک چیز میں قابل قبول نہیں۔ (راوی نے چوتھی چیز کا نام نہیں لیا) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38114]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38114، ترقيم محمد عوامة 36526)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں