🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. وذكر أن أبا حنيفة (كان يقول): لا يفعل ذلك وكرهه
مردوں کے لئے تسبیح کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37432 ترقیم الشثری: -- 39033
٣٩٠٣٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: كان رجل من المسلمين اعمى، فكان ياوي إلى امراة يهودية، فكانت تطعمه وتسقيه وتحسن إليه، وكانت لا تزال تؤذيه في رسول الله ﷺ، فلما سمع (ذلك منها) (١) ليلة من الليالي قام فخنقها حتى قتلها، فرفع ذلك إلى النبي ﷺ فنشد الناس في امرها، فقام الرجل فاخبره انها كانت تؤذيه في النبي ﷺ وتسبه وتقع فيه فقتلها لذلك، فابطل النبي ﷺ دمها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (منها ذلك).
(٢) مرسل؛ الشعبي تابعي، وقد ورد متصلًا من طريق الشعبي عن علي، أخرجه هكذا أبو داود (٤٣٦٢)، والضياء في المختارة (٥٤٧)، والبيهقي ٧/ ٦٠.

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک اندھا آدمی تھا اور وہ ایک یہودی عورت کے گھر میں رہائش پذیر تھا وہ عورت اس کو کھلاتی پلاتی تھی اور اس کے ساتھ اچھا رویہ رکھتی تھی۔ لیکن یہ عورت اس مسلمان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے بارے میں مسلسل اذیت دیتی تھی۔ پس جب اس نابینا مسلمان نے اس عورت کے منہ سے ایک رات کو یہ باتیں سُنیں۔ تو وہ کھڑا ہوا اور اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ یہ عورت مرگئی۔ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اٹھایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے معاملہ میں لوگوں سے سوال کیا تو وہ نابینا مسلمان کھڑے ہوئے اور بتایا کہ یہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اذیت دیتی تھی اور آپ کو سب و شتم کرتی تھی۔ انہوں نے اس عورت کو اس لئے قتل کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے خون کو رائیگاں ٹھہرایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39033]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39033، ترقيم محمد عوامة 37432)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37433 ترقیم الشثری: -- 39034
٣٩٠٣٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حصين عن شيخ عن ابن عمر انه (تفلت) (١) على راهب سب النبي ﷺ بالسيف وقال: إنا (لم) (٢) نصالحكم على شتم نبينا ﷺ (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أصلت).
(٢) في [س]: (لا).
(٣) مجهول؛ لإبهام راويه.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والے ایک راہب پر تلوار سونتی اور فرمایا: ہم نے تمہارے ساتھ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دینے پر صلح نہیں کی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39034]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39034، ترقيم محمد عوامة 37433)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں