مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
69. وذكر أن أبا حنيفة قال: بخلافه وقال: عليه قيمتها
پیالہ کو ٹوٹنا اور اس کے ضمان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37437 ترقیم الشثری: -- 39038
٣٩٠٣٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال: اخبرني زيد ابن ثابت ان النبي ﷺ رخص في العرايا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٨٠)، ومسلم (١٥٣٩).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا (درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کے ہدیہ کو کٹی ہوئی کھجوروں سے بدلنا) میں رخصت دی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39038]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39038، ترقيم محمد عوامة 37437)
ترقیم عوامۃ: 37438 ترقیم الشثری: -- 39039
٣٩٠٣٩ - حدثنا ابو اسامة عن الوليد بن كثير قال: حدثني (بشير) (١) بن يسار انه سمع سهل بن ابي حثمة ورافع بن (٢) خديج يقولان: نهى رسول الله ﷺ عن (المحاقلة) (٣) والمزابنة إلا اصحاب العرايا، فإنه قد اذن لهم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بشر).
(٢) في [أ، ط، هـ]: زيادة (أبي).
(٣) في [س]: (المحاطة)، وفي [أ]: (المحالقة).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٨٤)، ومسلم (١٥٤٠).
حضرت سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن ابی خدیج فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا لیکن عرایا والوں کو رخصت دی تھی۔ (محاقلہ: کٹی ہوئی کھیتی کو لگی ہوئی کھیتی کا عوض بنانا) (مزابنہ: کٹے ہوئے پھل کو لگے ہوئے پھل کا عوض بنانا)۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: یہ درست نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39039]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39039، ترقيم محمد عوامة 37438)