مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
90. وذكر أن أبا حنيفة كان يكره المسح على الجوربين والنعلين إلا أن يكون أسفلهما جلود
جرابوں پر مسح کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37513 ترقیم الشثری: -- 39117
٣٩١١٧ - حدثنا يزيد عن يحيى بن سعيد ان محمد بن يحيى بن حبان اخبره عن ابن محيريز القرشي انه اخبره عن المخدجي -رجل من بني كنانة- انه اخبره ان رجلا من الانصار -كان بالشام يكنى ابا محمد وكانت له صحبة- فاخبره ان الوتر واجب، فذكر المخدجي انه راح إلى عبادة بن الصامت فاخبره، فقال عبادة: كذب ابو محمد، سمعت النبي ﷺ يقول:"خمس صلوات كتبهن الله على العباد من جاء بهن لم يضيع من (حقهن) (١) جاء و (له) (٢) عند الله عهد ان يدخله الجنة ومن انتقص من حقهن جاء وليس له عند الله عهد: إن شاء عذبه، وإن شاء ادخله الجنة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (شيئًا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (ليس).
(٣) مجهول؛ لجهالة المخدجي، أخرجه أحمد (٢٢٦٩٣)، وأبو داود (١٤٢٠)، وابن ماجه (١٤٠١)، والنسائي (١٧٣٢)، وابن حبان (١٧٣٢)، ومالك ١/ ١٢٣، والطيالسي (٥٧٣)، والدارمي (١٥٧٧)، وعبد الرزاق (٤٥٧٥)، والحميدي (٣٨٨)، والشاشي (١٢٨١)، والطحاوي في شرح المشكل (٣١٦٧)، والطبراني في مسند الشاميين (٢١٨١)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ١٢٦، والبغوي (٩٧٨).
بنو کنانہ کے ایک صاحب حضرت مخدجی بیان کرتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری تھے جنہیں صحبت بھی حاصل تھی۔ اور جن کی کنیت ابو محمد تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ وتر واجب ہے۔ مخدجی ذکر کرتے ہیں کہ وہ (مخدجی) حضرت عبادہ بن صامت کے پاس گئے اور انہیں یہ بات (وجوب وتر) بیان کی تو حضرت عبادہ نے فرمایا: ابو محمد نے غلط بات کہی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سُنا ہے کہ پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض فرمایا ہے۔ جو شخص انہیں یوں ادا کرے گا (لے کر آئے گا) کہ ان کے حقوق میں سے کچھ بھی ضائع نہ کیا ہو تو وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عہد ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ اور جو شخص ان نمازوں کے حقوق میں سے کچھ کمی کرے گا تو وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عہد نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہے گا تو اس کو عذاب دے گا اور اگر اللہ چاہے گا تو اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39117، ترقيم محمد عوامة 37513)
ترقیم عوامۃ: 37514 ترقیم الشثری: -- 39118
٣٩١١٨ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن مسلم مولى عبد القيس قال: قال رجل لابن عمر: ارايت الوتر سنة هو؟ قال: ما سنة؟ اوتر النبي ﷺ واوتر المسلمون، (قال) (١) : لا، اسنة هو؟ قال: مه، اتعقل: اوتر النبي ﷺ واوتر المسلمون (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: تكرر.
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٤٨٣٤)، ومالك ١/ ١٢٤.
حضرت مسلم مولی عبد القیس بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی کیا رائے ہے کہ وتر سُنّت ہے؟ آپ نے فرمایا: سُنّت کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے (بس)۔ سائل نے عرض کیا۔ نہیں۔ کیا یہ سُنّت ہے؟ آپ نے فرمایا: چھوڑو! تم میں عقل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے۔ (بس بات ختم) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39118]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39118، ترقيم محمد عوامة 37514)
ترقیم عوامۃ: 37515 ترقیم الشثری: -- 39119
٣٩١١٩ - حدثنا ابو خالد عن حجاج عن ابي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: قيل له: الوتر (١) ؟ قال: قد اوتر النبي وثبت عليه المسلمون (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (فريضة هي)، مما ورد في كتاب الصلاة ٢/ ٢٩٦ [٧٠٢٩].
(٢) منقطع حكمًا؛ أبو خالد وحجاج صدوقان، حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٦٥٢)، والترمذي (٤٥٤)، والبيهقي ٢/ ٤٦٧، وأبو يعلى (٣١٧)، وعبد بن حميد (٧٠)، وسبق ٢/ ٢٩٦ برقم [٧٠٢٩].
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں کہا گیا۔ کیا وتر فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے اس پر ثابت قدمی کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39119]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39119، ترقيم محمد عوامة 37515)
ترقیم عوامۃ: 37516 ترقیم الشثری: -- 39120
٣٩١٢٠ - حدثنا ابو خالد عن حجاج عن ابي إسحاق عن عاصم (بن) (١) ضمرة قال: قال علي: الوتر ليس بحتم كالصلاة المكتوبة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، وانظر: ما قبله.
حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہالمرتضیٰ نے فرمایا: وتر فرض نمازوں کی طرح لازم نہیں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39120]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39120، ترقيم محمد عوامة 37516)
ترقیم عوامۃ: 37517 ترقیم الشثری: -- 39121
٣٩١٢١ - حدثنا ابن مبارك عن عبد الكريم عن سعيد بن المسيب قال: سن النبي ﷺ الوتر كما سن الفطر والاضحى (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي.
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتروں کو یونہی سُنّت ٹھہرایاجس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فطرانہ اور قربانی کو سُنت ٹھہرایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39121]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39121، ترقيم محمد عوامة 37517)
ترقیم عوامۃ: 37518 ترقیم الشثری: -- 39122
٣٩١٢٢ - حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد قال: الوتر سنة.
حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ وتر سنت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39122]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39122، ترقيم محمد عوامة 37518)
ترقیم عوامۃ: 37519 ترقیم الشثری: -- 39123
٣٩١٢٣ - حدثنا ابن فضيل عن مطرف عن الشعبي انه سئل عن رجل نسي الوتر قال: لا يضره، كانما (هو) (١) فريضة!.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (هي).
حضرت شعبی کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو وتر (پڑھنا) بھول گیا تھا۔ انہوں نے فرمایا: یہ اس کو نقصان دہ نہیں، گویا کہ یہ فرض ہیں؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39123]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39123، ترقيم محمد عوامة 37519)
ترقیم عوامۃ: 37520 ترقیم الشثری: -- 39124
٣٩١٢٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن انه كان لا يرى الوتر فريضة.
حضرت حسن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ وتروں کو فرض نہیں سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39124]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39124، ترقيم محمد عوامة 37520)
ترقیم عوامۃ: 37521 ترقیم الشثری: -- 39125
٣٩١٢٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عطاء ومحمد بن علي قالا: الاضحى والوتر سنة.
حضرت عطاء اور محمد بن علی رضی اللہ عنہ دونوں فرماتے ہیں کہ قربانی اور وتر سُنّت ہے۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: وتر فرض ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39125]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39125، ترقيم محمد عوامة 37521)