مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
92. وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يجلس إلا جلسة واحدة
جمعہ کے خطبہ میں دو مرتبہ بیٹھنے کا یبان
ترقیم عوامۃ: 37525 ترقیم الشثری: -- 39129
٣٩١٢٩ - حدثنا ابن نمير عن سعد بن سعيد عن محمد بن إبراهيم التيمي عن قيس ابن عمرو قال: راى النبي ﷺ رجلا يصلي بعد صلاة الصبح ركعتين، فقال النبي ﷺ:" (اصلاة) (١) الصبح مرتين"، فقال الرجل: إني لم اكن صليت الركعتين اللتين قبلهما، فصليتهما الآن، فسكت رسول الله ﷺ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (صلاة).
(٢) منقطع؛ التيمي لا يروي عن قيس، أخرجه أحمد (٢٣٧٦٠)، وأبو داود (١٢٦٧)، والترمذي (٤٢٢)، وابن ماجه (١١٥٤)، وابن خزيمة (١١١٦)، وابن حبان (١٥٦٣)، والحاكم ١/ ٢٧٥، والحميدي (٨٦٨)، والشافعي في المسند ١/ ٥٧، والطحاوي في شرح المشكل (٤١٣٨)، والطبراني ١٨/ (٩٣٨)، والدارقطني ١/ ٣٨٤، وعبد الرزاق (٤٠١٦).
حضرت قیس بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو صبح کی نماز کے بعد دو رکعات پڑھتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا صبح کی نماز دو مرتبہ پڑھتے ہو؟ اس آدمی نے عرض کیا۔ میں فجر کے نماز سے پہلے والی دو سُنت نہیں پڑھ سکا تھا پس میں نے انہیں ابھی پڑھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39129، ترقيم محمد عوامة 37525)
ترقیم عوامۃ: 37526 ترقیم الشثری: -- 39130
٣٩١٣٠ - حدثنا هشيم عن عبد الملك عن عطاء ان رجلا صلى مع النبي ﷺ صلاة الصبح، فلما قضى النبي ﷺ الصلاة قام الرجل فصلى ركعتين فقال له النبي ﷺ:"ما هاتان الركعتان؟" فقال: يا رسول الله ﷺ (١) جئت وانت في الصلاة ولم اكن صليت الركعتين قبل الفجر، فكرهت ان اصليهما وانت تصلي، فلما قضيت الصلاة قمت فصليتهما، قال: فلم يامره ولم ينهه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، س].
(٢) مرسل؛ عطاء تابعي.
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز صبح ادا کی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو وہ صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے دو رکعات ادا فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہوں نے انہں پوچھا: یہ دو رکعات کیا ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں اس وقت (مسجد میں) آیا جبکہ آپ نماز میں تھے۔ اور میں نے فجر سے پہلے والی دو رکعات بھی نہیں پڑھی تھیں۔ میں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ آپ نماز پڑھا رہے ہوں اور میں وہ دو رکعات پڑھوں۔ پس جب آپ نے نماز پوری کرلی تو میں نے ان دو رکعتوں کو ادا کرلیا۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نہ حکم دیا اور نہ ہی ان کو (اس سے) منع کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39130، ترقيم محمد عوامة 37526)
ترقیم عوامۃ: 37527 ترقیم الشثری: -- 39131
٣٩١٣١ - حدثنا (هشيم) (١) اخبرنا مسمع بن ثابت قال: رايت عطاء فعل مثل ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (مسلم قال:)، وقد ورد في كتاب الصلاة من المصنف ٢/ ٢٥٤ [٦٥٩٩] من طريق هشيم.
مسمع بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39131، ترقيم محمد عوامة 37527)
ترقیم عوامۃ: 37528 ترقیم الشثری: -- 39132
٣٩١٣٢ - حدثنا ابن علية عن ليث عن الشعبي قال: إذا (فاتته) (١) (ركعتا) (٢) الفجر صلاهما بعد الفجر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فاتت).
(٢) في [س]: (الركعتا).
حضرت شعبی کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان کی فجر کی دو رکعات (سُنت) رہ جاتی تھیں تو وہ انہیں فجر کی نماز (فرض) کے بعد ادا کرلیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39132، ترقيم محمد عوامة 37528)
ترقیم عوامۃ: 37529 ترقیم الشثری: -- 39133
٣٩١٣٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن يحيى بن (ابي) (١) كثير قال: سمعت القاسم يقول: إذا لم اصلهما حتى اصلي الفجر صليتهما بعد طلوع الشمس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
یحییٰ بن کثیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم کو کہتے سُنا کہ اگر میں ان دو رکعات نہ پڑھ چکا ہوں یہاں تک کہ میں فجر (کے فرض) پڑھ لوں تو میں انہیں طلوع آفتاب کے بعد پڑھ لیتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39133، ترقيم محمد عوامة 37529)
ترقیم عوامۃ: 37530 ترقیم الشثری: -- 39134
٣٩١٣٤ - حدثنا (شريك) (١) عن فضيل عن نافع عن ابن عمر انه صلى ركعتي الفجر (٢) بعد ما اضحى (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ولم يذكر بين شريك وفضيل رواية، ولعل الصواب وكيع كما تقدم ٢/ ٢٥٥ [٦٦٠٢].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (بعد الفجر).
(٣) حسن؛ شريك صدوق.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فجر کی دو رکعات (سُنّت) کو اشراق کے بعد پڑھا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: آدمی پر ان کی (سُنَتِ فجر کی) قضاء نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39134]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39134، ترقيم محمد عوامة 37530)