🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. إسلام عمر بن الخطاب ﵁
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37754 ترقیم الشثری: -- 39359
٣٩٣٥٩ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا يحيى بن يعلى الاسلمي عن عبد الله ابن المؤمل عن ابي الزبير عن جابر قال: كان اول إسلام عمر قال: قال: ضرب اختي المخاض ليلا فاخرجت من البيت فدخلت في استار الكعبة في ليلة قارة، قال: فجاء النبي ﵊ (٢) فدخل الحجر وعليه نعلاه، فصلى ما شاء (الله) (٣) ثم انصرف، قال: فسمعت شيئا لم اسمع مثله، (فخرجت) (٤) فاتبعته فقال:"من هذا؟" فقلت: عمر، قال:"يا عمر ما تتركني ⦗٣٩٠⦘ (نهارا ولا ليلا؟) (٥) "، قال: فخشيت ان يدعو علي، قال: فقلت: اشهد ان لا إله إلا الله وانك رسول الله، قال: فقال:"يا عمر استره"، قال: فقلت: والذي بعثك بالحق لاعلننه كما اعلنت الشرك (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ي].
(٢) في [جـ، س، ي]: ﷺ.
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [ي].
(٥) في [أ، ب]: (ليلًا ولا نهارًا).
(٦) ضعيف؛ لضعف يحيى بن يعلى وعبد اللَّه بن المؤمل، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٣٩، وابن عساكر ٤٤/ ٢٩.

حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے اسلام کا اوّل (زمانہ) تھا۔ فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بیان کرتے ہیں۔ ایک رات میری بہن کو اونٹنی نے مارا تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ پس میں ایک ٹھنڈی رات کو کعبہ کے پردوں میں داخل ہوا۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ حجر اسود پر داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس مڑے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ میں نے ایسی شئی سُنی جس کی مثل میں نے (پہلے) نہیں سُنی تھی۔ پس میں نکلا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا۔ عمر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تو مجھے دن کو چھوڑتا ہے اور نہ ہی رات کو۔ حضرت عمر کہتے ہیں: مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے بد دعا کردیں گے۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اس کو چھپاؤ۔ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ البتہ میں ضرور بالضرور اس کا یوں ہی اعلان کروں گا جیسا کہ میں نے شرک کا اعلان کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39359]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39359، ترقيم محمد عوامة 37754)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37755 ترقیم الشثری: -- 39360
٣٩٣٦٠ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن هلال بن (يساف) (١) قال: اسلم عمر بن الخطاب بعد اربعين رجلا (وإحدى) (٢) (عشرة) (٣) امراة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (أساف).
(٢) في [جـ]: (وأحد).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (عشر).
(٤) مرسل؛ هلال تابعي، ولم يدرك عمر.

حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے کہ حضرت عمر چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام لائے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39360]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39360، ترقيم محمد عوامة 37755)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں