سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
32. بَابُ ذِكْرِ التَّكْبِيرِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الِافْتِتَاحِ وَالرُّكُوعِ وَالرَّفْعِ مِنْهُ وَقَدْرِ ذَلِكَ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ
باب: تکبیر تحریمہ، نماز کے آغاز میں، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، رفع یدین کرنا، اس کی مقدار اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 1114 ترقیم الرسالہ : -- 1129
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ،" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَى بِهِمَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے آغاز میں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دونوں کانوں تک بلند کیے پھر اس کے بعد نماز سے فارغ ہونے تک رفع یدین نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1129]
ترقیم العلمیہ: 1114
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 749، 752، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2346، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1126، 1127، 1129، 1130، 1131، 1132، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 741، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18779»
«قال الحميدي: ضعفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 400)»
«قال الحميدي: ضعفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 400)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1115 ترقیم الرسالہ : -- 1130
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا لُوَيْنٌ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1130]
ترقیم العلمیہ: 1115
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 749، 752، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2346، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1126، 1127، 1129، 1130، 1131، 1132، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 741، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18779»
«قال الحميدي: ضعفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 400)»
«قال الحميدي: ضعفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 400)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1116 ترقیم الرسالہ : -- 1131
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ هَارُونَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ،" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ" . قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ. وَهَذَا هُوَ الصَّوَابُ. وَإِنَّمَا لَقَّنَ يَزِيدَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ فَتَلَقَّنَهُ وَكَانَ قَدِ اخْتَلَطَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے تکبیر کہتے ہوئے رفع یدین کیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے اور یہی درست ہے۔ یزید نامی راوی کو ان کی آخری عمر میں تلقین کی گئی تھی، وہ یہ الفاظ نقل کریں: ”پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔“ تو انہوں نے اس تلقین کو قبول کیا، اس روایت کے الفاظ ان کے لیے خلط ملط ہو گئے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1131]
ترقیم العلمیہ: 1116
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 749، 752، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2346، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1126، 1127، 1129، 1130، 1131، 1132، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 741، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18779»
«قال الحاکم: كان أبي ينكر حديث الحكم وعيسى ويقول إنما هو حديث يزيد بن أبي زياد وابن أبي ليلى سيئ الحفظ وابن أبي زياد ليس بالحافظ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 402) _x000D_»
«قال الحاکم: كان أبي ينكر حديث الحكم وعيسى ويقول إنما هو حديث يزيد بن أبي زياد وابن أبي ليلى سيئ الحفظ وابن أبي زياد ليس بالحافظ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 402) _x000D_»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1117 ترقیم الرسالہ : -- 1132
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الآدَمِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى سَاوَى بِهِمَا أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ" . قَالَ عَلِيٌّ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ قِيلَ لِي: إِنَّ يَزِيدَ حَيٌّ، فَأَتَيْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى سَاوَى بِهِمَا أُذُنَيْهِ"، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى أَنَّكَ قُلْتَ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ؟ قَالَ: لا أَحْفَظُ هَذَا فَعَاوَدْتُهُ، فَقَالَ: مَا أَحْفَظُهُ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند کیا، اس کے بعد آپ نے دوبارہ (نماز میں رفع یدین نہیں کیا)۔ علی بن عاصم راوی بیان کرتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو مجھے بتایا گیا یزید نامی راوی حیات ہیں، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی انہوں نے بتایا: عبدالرحمن بن ابولیلی نے سیدنا براء کا یہ بیان نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند کیا۔“ میں نے انہیں کہا: مجھے ابن ابولیلی نے یہ روایت سنائی ہے، آپ نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بعد میں رفع یدین نہیں کیا۔“ تو انہوں نے یہ جواب دیا: ”مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں۔“ میں نے اپنی بات دوبارہ ان کے سامنے دہرائی انہوں نے یہی کہا: ”مجھے یاد نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1132]
ترقیم العلمیہ: 1117
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 749، 752، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2346، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1126، 1127، 1129، 1130، 1131، 1132، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 741، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18779»
«قال الحميدي: ضعفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 400)»
«قال الحميدي: ضعفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 400)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1118 ترقیم الرسالہ : -- 1133
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ ، قَالا: نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلا عِنْدَ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى فِي افْتِتَاحِ الصَّلاةِ" . قَالَ إِسْحَاقُ: بِهِ نَأْخُذُ فِي الصَّلاةِ كُلِّهَا، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ وَكَانَ ضَعِيفًا، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ حَمَّادٍ يَرْوِيهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مُرْسَلا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ فِعْلِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّوَابُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازیں ادا کی ہیں، یہ حضرات صرف نماز کے آغاز میں پہلی تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا کرتے تھے۔ اسحق نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: ہم نماز پڑھنے کے طریقے کے بارے میں اس روایت کو اختیار کریں گے اس روایت کو نقل کرنے میں محمد بن جابر نامی راوی منفرد ہیں اور یہ صاحب ضعیف ہیں، محمد بن جابر نے اسے حماد نامی راوی کے حوالے سے ابراہیم نخعی سے نقل کیا ہے، جبکہ حماد کے علاوہ دیگر راویوں نے اسے ابراہیم نخعی سے مرسل روایت کے طور پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے فعل کے طور پر نقل کیا ہے انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہو اور یہی روایت درست ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1133]
ترقیم العلمیہ: 1118
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1025، برقم: 1057، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 649، 1100، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 748، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 257، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2571، 2575، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1133، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3756»
«قال الدارقطني: تفرد به محمد بن جابر وكان ضعيفا عن حماد عن إبراهيم وغير حماد يرويه عن إبراهيم مرسلا عن عبد الله من فعله غير مرفوع إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو الصواب، سنن الدارقطني: (2 / 52) برقم: (1133)»
«قال الدارقطني: تفرد به محمد بن جابر وكان ضعيفا عن حماد عن إبراهيم وغير حماد يرويه عن إبراهيم مرسلا عن عبد الله من فعله غير مرفوع إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو الصواب، سنن الدارقطني: (2 / 52) برقم: (1133)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1119 ترقیم الرسالہ : -- 1134
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا لُوَيْنٌ ، ثنا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنْظُرَ كَيْفَ يُصَلِّي فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَى أُذُنَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَعَلَهُمَا بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَعَلَهُمَا بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ مِنْ رَأْسِهِ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ" .
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ خود اس بات کو دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز ادا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو آپ نے پھر رفع یدین کیا یہاں تک کہ انہیں اسی جگہ تک بلند کیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو دونوں ہاتھوں کو اتنا ہی بلند کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سر کے اسی حصے کے مقابل میں رکھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1134]
ترقیم العلمیہ: 1119
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 457، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1805، 1860، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 878، 1267، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 723، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 248، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 810، 854، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1134، 1135، 1120، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 909، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19143»
«والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 909»
«والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 909»
الحكم على الحديث:
صحيح
ترقیم العلمیہ : 1120 ترقیم الرسالہ : -- 1135
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا لُوَيْنٌ ، ثنا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ إِلا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ السُّجُودَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تاہم اس میں سجدے کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1135]
ترقیم العلمیہ: 1120
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 457، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1805، 1860، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 878، 1267، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 723، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 248، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 810، 854، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1134، 1135، 1120، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 909، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19143»
«والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 909»
«والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 909»
الحكم على الحديث:
صحيح
ترقیم العلمیہ : 1121 ترقیم الرسالہ : -- 1136
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشِ أَبُو عُتْبَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ" .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو اسی طرح رفع یدین کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1136]
ترقیم العلمیہ: 1121
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 390، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 245، 250، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 456، 583، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 875، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 741، 742، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 255، 256، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 858، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1136، 1111، 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 626، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4628»
الحكم على الحديث:
صحيح