🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ
مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4356 ترقیم الرسالہ : -- 4436
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، نَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، نَا السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وَقُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، بِالْمِفْتَحِ، وَأَنَا أَسْمَعُ قِيلَ لَهُ سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ السَّعْدِيِّ . ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَاوَانَ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ . ح وَنا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَبِي ، نَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، نَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عن المعتمر بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَذَاكَ أَنِّي قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ اعْتِزَالَ الأَحْنَفِ مَا كَانَ؟، قَالَ: سَمِعْتُ الأَحْنَفَ، يَقُولُ: وَأَنَا حَاجٌّ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ، فَقَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا النَّاسُ يَجْتَمِعُونَ وَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ نَفَرٌ قُعُودٌ، فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَلَمَّا قُمْتُ عَلَيْهِمْ، قِيلَ: هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَجَاءَ وَعَلَيْهِ مُلاءَةٌ صَفْرَاءُ فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَهَاهُنَا عَلِيٌّ، أَهَاهُنَا الزُّبَيْرُ، أَهَاهُنَا طَلْحَةُ، أَهَاهُنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَابْتَعْتُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ، قَالَ: فَاجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ، فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ، قَالَ: فَاجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهُ إِلا هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يُجَهِّزُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالا وَلا خِطَامًا، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ" ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُعْتَمِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ فِي حَدِيثِهِ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"، فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ أَيْضًا فِي بِئْرِ رُومَةَ: فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، وَقَالَ:" اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ". وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ فِي حَدِيثِهِ فِي قِصَّةِ الْمِرْبَدِ: فَابْتَعْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ تُوَسِّعُ بِهِ فِي مَسْجِدِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ:" نَعَمْ، وَقَدْ وَجَبَ أَجْرُهُ لَكَ"، وَقَالَ فِي بِئْرِ رُومَةَ: فَابْتَعْتُهَا بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، الشَّكُّ مِنْ حُصَيْنٍ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ فِي قِصَّةِ الْمِرْبَدِ: فَابْتَعْتُهُ بِبَضْعَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ، وَبَقِيَّةُ أَلْفَاظِهِمْ مُتَقَارِبَةٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ. وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِي بِئْرِ رُومَةَ، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا.
حصین بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمرو بن جاوان سے، جن کا تعلق بنو تمیم سے تھا، پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ احنف کس بنیاد پر الگ ہوئے تھے؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے سیدنا احنف رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ آیا، میں حج کے لیے جا رہا تھا۔ ابھی ہم اپنے پڑاؤ کی جگہ پر تھے اور اپنی سواریاں بٹھائی ہی تھیں کہ ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ میں بھی وہاں گیا، تو میں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور ان کے سامنے کچھ افراد بیٹھے ہوئے ہیں، جن میں سیدنا علی بن ابوطالب، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب میں ان کے قریب جا کر کھڑا ہوا، تو یہ اعلان ہوا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں۔ جب وہ تشریف لائے، تو انہوں نے زرد رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: کہ یہیں ٹھہرو! ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کیا ہوتا ہے؟ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا علی یہاں ہیں؟ کیا زبیر یہاں ہیں؟ کیا طلحہ یہاں ہیں؟ کیا سعد بن ابی وقاص یہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا: جی ہاں۔ پھر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، کیا آپ لوگ یہ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص فلاں شخص کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ خرید کر اللہ تعالیٰ کے نام کر دے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا۔‘ تو میں نے وہ جگہ خرید کر دی۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے وہ جگہ خرید لی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس جگہ کو ہماری مسجد میں شامل کر دو، تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ تو وہاں موجود تمام افراد نے کہا: یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، کیا آپ حضرات یہ بات جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص رومہ کا کنواں خرید کر دے گا، اسے اس کا اجر ملے گا۔‘ تو یہ سننے کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: میں نے رومہ کا کنواں خرید لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے چھوڑ دو، تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ اس پر تمام حاضرین نے کہا: کہ آپ نے یہ بات بالکل ٹھیک بیان کی ہے۔ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’کون شخص ہے، جو غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا۔‘ (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) تو میں نے اس لشکر کو پورا سامان فراہم کیا، یہاں تک کہ اونٹ کو باندھنے والی رسی اور مہار بھی انہیں فراہم کی۔ تو سب لوگوں نے کہا: آپ نے یہ بات بھی ٹھیک بیان کی ہے۔ اس پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ ہو جا! اے اللہ! تو گواہ ہو جا! اے اللہ! تو گواہ ہو جا! یہاں روایت کے الفاظ نقل کرنے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ ابن ادریس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: کون شخص بنو فلاں کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو خریدے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے، تو میں نے بیس ہزار درہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) پچیس ہزار درہم کے عوض میں اسے خریدا۔ اسی طرح انہوں نے بئر رومہ کے بارے میں بھی یہ بات بیان کی کہ میں نے اسے اتنی، اتنی رقم کے عوض میں خریدا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔ علی بن عاصم نامی راوی نے اپنی روایت میں کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کے واقعے میں یہ بات نقل کی ہے: میں نے اتنی، اتنی رقم کے عوض میں اسے خریدا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ہے: میں نے بنو فلاں کی کھجوروں والی جگہ کو خرید لیا ہے، آپ اسے مسلمانوں کی مسجد میں توسیع کے لیے استعمال کریں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ٹھیک ہے! تمہارا اجر واجب ہو گیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے بئر رومہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا: میں نے اسے بیس ہزار درہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) پچیس ہزار درہم کے عوض میں خریدا۔ جبکہ ابوعوانہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میں نے کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو بیس ہزار سے کچھ زیادہ رقم کے عوض میں خریدا۔ ان تمام روایات کا مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4436]
ترقیم العلمیہ: 4356
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2487، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6920، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3184، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4376، 6400، 6401، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4436، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 518، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 25244، 31271»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4357 ترقیم الرسالہ : -- 4437
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وَنا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، قَالا: نَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ فِيهَا مَعَ دِلاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَجَعَلْتُ دَلْوِي فِيهَا مَعَ دِلاءِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّهُمُ الْيَوْمَ يَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا، حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ صُلْبِ مَالِي؟، قَالَ: قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَالإِسْلامَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَزِدْتُهَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَأَنَا، فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى سَقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ، فَرَكَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: اسْكُنْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ؟، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ مُتَقَارِبَانِ فِيهِ" .
ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس موجود تھا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرف جھانک کر ارشاد فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو اس وقت وہاں پر میٹھے پانی کا کنواں صرف بئر رومہ تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’کون شخص بئر رومہ کو خرید کر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا، اس کے بدلے میں اسے جنت مل جائے گی۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور تمام مسلمانوں کو اس میں برابر کا حق دار قرار دیا تھا اور آج تم لوگ مجھے اسی کنوئیں کا پانی پینے سے روک رہے ہو اور مجھے سمندر کا (یعنی کھارا) پانی پینا پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے اپنے ذاتی مال میں سے غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کیا تھا۔ تو لوگوں نے جواب دیا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ مسجد چھوٹی ہو گئی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص فلاں لوگوں کی زمین کو خرید کر اسے مسجد میں توسیع کے لیے دے گا، اس کے بدلے میں اسے جنت مل جائے گی۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور اس کے ذریعے مسجد میں اضافہ کروایا تھا، آج تم لوگ مجھے اسی مسجد میں دو رکعت پڑھنے سے روک رہے ہو۔ ان لوگوں نے عرض کی: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ’ثبیر‘ پر موجود تھے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور میں بھی تھا، اسی دوران وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا اور اس کے کچھ پتھر نیچے گرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پاؤں مار کر ارشاد فرمایا: ’تم اپنی جگہ پر ساکن رہو، تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔‘ لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہا اور بولے: تم لوگ میرے بارے میں گواہ ہو جاؤ! رب کعبہ کی قسم! میں شہید ہوں۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ یہاں روایت کے الفاظ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4437]
ترقیم العلمیہ: 4357
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2492، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 321، 322، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3612، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6402، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3703، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12055، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4437، 4438، 4439، 4440»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4358 ترقیم الرسالہ : -- 4438
نَا نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، نَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، بِهَذَا وَزَادَ فِيهِ:" أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي إِحْدَى ابْنَتَيْهِ بَعْدَ الأُخْرَى رَضِيَ بِي وَرَضِيَ عَنِّي؟، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ" .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک صاحبزادی کے انتقال کے بعد اپنی دوسری صاحبزادی کا نکاح میرے ساتھ کیا تھا، آپ مجھ سے راضی تھے اور مجھ سے خوش تھے۔ لوگوں نے جواب دیا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4438]
ترقیم العلمیہ: 4358
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2492، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 321، 322، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3612، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6402، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3703، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12055، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4437، 4438، 4439، 4440»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4359 ترقیم الرسالہ : -- 4439
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي ثُمَامَةَ الأَنْصَارِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ حَقٍّ ، حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمُ اطِّلاعَةً، وَقَالَ:" ادْعُوا لِي صَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ يَأْلِبَاكُمْ عَلَيَّ فَدُعِيَا، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونُ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ، وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَجَعَلْتُهَا لِلْمُسْلِمِينَ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ؟، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ" .
ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس موجود تھا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس گھر کی دیوار سے جھانک کر دیکھا اور بولے: تم اپنے دو ساتھیوں کو میرے سامنے لے کر آؤ، جو فساد کی جڑ ہیں۔ ان دونوں کو سامنے لایا گیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم دونوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، تو مسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی، تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص اپنے مال میں سے اس زمین کو خرید کر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا؟ اسے جنت میں اس سے بہتر جگہ ملے گی۔‘ تو میں نے اسے اپنے مال میں سے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ تو لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب تم لوگ مجھے اسی مسجد سے دو رکعت نماز ادا کرنے سے بھی روک رہے ہو، میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے غزوہ تبوک میں ساز و سامان فراہم کیا تھا۔ تو ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! ایسا ہی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4439]
ترقیم العلمیہ: 4359
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2492، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 321، 322، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3612، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6402، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3703، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12055، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4437، 4438، 4439، 4440»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4360 ترقیم الرسالہ : -- 4440
نَا نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ حَقٍّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، بِهَذَا وَقَالَ: اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ فَدُعِيَا لَهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ بِهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ إِلا بِئْرُ رُومَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونُ دَلْوُهُ فِيهَا كَدِلاءِ الْمُسْلِمِينَ، وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ"، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: وہ دو لوگ کہاں ہیں، جنہوں نے تمہیں میرے خلاف بھڑکایا ہے؟ ان دونوں کو لایا گیا۔ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، تو وہاں کوئی میٹھا کنواں نہیں تھا، صرف بئر رومہ تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص اپنے مال میں سے اسے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ تو اسے جنت میں اس سے بہتر اجر ملے گا۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور آج تم لوگ مجھے اسی کنوئیں سے پانی پینے سے روک رہے ہو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4440]
ترقیم العلمیہ: 4360
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2492، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 321، 322، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3612، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6402، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3703، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12055، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4437، 4438، 4439، 4440»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4361 ترقیم الرسالہ : -- 4441
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ بْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ ، نَا جَدِّي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَامِرٍ إِلَى عُثْمَانَ كِتَابًا فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ وَقَدْ نزل بِهِ أُولَئِكَ فَعَمَدْتُ إِلَى الْكُتُبِ فَخَيَّطْتُهَا فَجَعَلْتُهَا فِي قِبَائِي ثُمَّ لَبِسْتُ لِبَاسَ الْمَرْأَةِ، فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلْتُ أُفَتِّقُ قِبَائِي وَهُوَ يَنْظُرُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَقَرَأَهَا ثُمَّ أَشْرَفَ عَلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا طَلْحَةُ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: يَا طَلْحَةُ، قَالَ: يَا لَبَّيْكَ، قَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَشْتَرِي قِطْعَةَ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَلَهُ بِهَا كَذَا وَكَذَا، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي، فَقَالَ طَلْحَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتُمْ فِيهِ آمِنُونَ وَأَنَا فِيهِ خَائِفٌ، ثُمَّ قَالَ: يَا طَلْحَةُ، قَالَ: يَا لَبَّيْكَ، قَالَ: أَنْشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ، يَعْنِي بِكَذَا فَيَجْعَلُهَا لِلْمُسْلِمِينَ وَلَهُ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي؟، فَقَالَ طَلْحَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ: يَا طَلْحَةُ، قَالَ: يَا لَبَّيْكَ، قَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُنِي حَمَلْتُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ عَلَى مِائَةٍ، قَالَ طَلْحَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ طَلْحَةُ: اللَّهُمَّ لا أَعْلَمُ عُثْمَانَ إِلا مَظْلُومًا" .
موسیٰ بن حکیم نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن عامر نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اس وقت تک یہ لوگ ان کے گرد گھیرا ڈال چکے تھے۔ میں نے اس خط کو اپنے کپڑے میں سی لیا اور اسے اپنی قبا کے اندر رکھ لیا، پھر میں نے ایک عورت کا لباس پہنا اور اسی طرح گزرتا ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہو گیا۔ میں ان کے سامنے آ کر بیٹھا، میں نے اپنی قبا کو پھاڑا، وہ دیکھتے رہے۔ میں نے وہ خط ان کی طرف بڑھایا، انہوں نے اسے پڑھا اور پھر انہوں نے مسجد کی طرف منہ کر کے دیکھا، تو وہاں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ مسجد کے مشرقی سمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آواز دی: اے طلحہ! سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں حاضر ہوں! سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتا ہوں کہ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’کون شخص زمین کا یہ ٹکڑا خرید کر اس کے ذریعے مسجد میں توسیع کرے گا، اس کے بدلے میں اسے یہ اجر ملے گا۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا۔ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اب اس مسجد میں آپ لوگ امن کی حالت میں ہیں اور میں اس میں خوف کے عالم میں ہوں۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے طلحہ! انہوں نے کہا: میں حاضر ہوں! پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتا ہوں، کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’کون شخص رومہ کے کنوئیں کو خریدے گا اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرے گا، اسے اس کے بدلے میں یہ، یہ کچھ ملے گا۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا۔ تو انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے طلحہ! انہوں نے کہا: میں حاضر ہوں! تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک کے لیے ایک سو اونٹ فراہم کیے تھے۔ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ اس کے بعد سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: اے اللہ! میرے علم کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4441]
ترقیم العلمیہ: 4361
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4441، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4362 ترقیم الرسالہ : -- 4442
نَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَنَشَدَ النَّاسَ، فَقَالَ:" أَتَعْلَمُونَ أَنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءٍ فَتَحَرَّكَ، فَقَالَ: اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلا نَبِيُّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، قَالَ: فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ، ثُمَّ قَالَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا بَيْتًا فِي الْمَسْجِدِ؟، فَاشْتَرَيْتُ بَيْتًا وَأَوْسَعْتُ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ كَانَتْ تُبَاعُ بَيْعًا مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ، وَإِنِّي اشْتَرَيْتُهَا فَجَعَلْتُهَا لِلَّهِ تَعَالَى، وَابْنِ السَّبِيلِ، قَالُوا: نَعَمْ فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، وَأَنْفَقْتُ عَلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ، ثُمَّ قَالَ: وَلَكِنَّهُ طَالَ عَلَيْكُمْ عُمْرِي وَاسْتَعْجَلْتُمْ قَدَرِي أَنْ أَنْزِعَ سِرْبَالا سَرْبَلَنِيهِ اللَّهُ تَعَالَى، لا وَاللَّهِ لا يَكُونُ ذَلِكَ أَبَدًا" .
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں محصور کر دیا گیا، تو انہوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور لوگوں کو قسم دی، وہ بولے: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں حرا پہاڑ کے اوپر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، وہ حرکت میں آنے لگا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’حرا اپنی جگہ پر رہو، تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔‘ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’کون شخص مسجد میں گھر کا اضافہ کرے گا۔‘ تو میں نے ایک گھر خریدا اور اس کے ذریعے مسجد میں توسیع کروا دی۔ تو لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا، میں نے اس کنوئیں کو خریدا اور اسے اللہ کے نام پر وقف کر دیا۔ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں! کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کیا تھا اور میں نے اس پر اتنی، اتنی رقم خرچ کی تھی۔ تو لوگوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اتنا عرصہ تمہارے درمیان رہا ہوں، لیکن تم نے میرے بارے میں جلدی بازی کا مظاہرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خلعت مجھے پہنائی ہے، میں اسے اتار دوں۔ اللہ کی قسم! یہ کبھی نہیں ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4442]
ترقیم العلمیہ: 4362
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2778، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2491، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6916، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1534، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3699، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4442، 4443، 4444، 4445، 4446، 4447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 427»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4363 ترقیم الرسالہ : -- 4443
نَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا أَبُو قَطَنٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: أَشْرَفَ عُثْمَانُ مِنَ الْقَصْرِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ:" أَنْشُدُ بِاللَّهِ تَعَالَى مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حِرَاءٍ إِذِ اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ، وَقَالَ: اسْكُنْ حِرَاءُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلا نَبِيُّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، قَالَ: أَنْشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: هَذِهِ يَدِي وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَبَايَعَ لِي؟، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، فَقَالَ: نَشَدْتُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا هَذَا الْبَيْتَ فِي الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ؟، فَابْتَعْتُهُ مِنْ مَالِي فَوَسَّعْتُ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، قَالَ: وَنَشَدْتُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ، وَقَالَ: مَنْ يُنْفِقُ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً، فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، قَالَ: وَنَشَدْتُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ بِئْرَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا لابْنِ السَّبِيلِ فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَأَبَحْتُهَا ابْنَ السَّبِيلِ، قَالَ: فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ" ،.
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں سے جھانک کر باہر دیکھا، وہ اس وقت محصور تھے اور بولے: میں اللہ کے نام کی قسم دے کر تم لوگوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ کون شخص اس وقت وہاں موجود تھا؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر موجود تھے اور وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے ذریعے اسے مارا اور فرمایا: ’اے حرا! ساکن رہو، تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔‘ اس وقت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ تو کچھ لوگوں نے اس بات کی گواہی دی (کہ یہ بات ٹھیک ہے)۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بیعت رضوان کی تھی، اس کو میں اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ پوچھتا ہوں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرکین کی طرف بھیجا تھا، تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ’یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سے بیعت لی تھی۔ کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، جو اس وقت موجود تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’کون شخص اس گھر کو خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا، اس کے عوض میں اسے جنت میں گھر ملے گا۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اس گھر کو خرید کر اس کے ذریعے اس مسجد میں توسیع کروا دی۔ تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ غزوہ تبوک کے لیے تیاری کر رہے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص آج کے دن ایسا خرچ کرے گا، جو قبول ہو گا؟‘ تو میں نے نصف لشکر کو اپنے مال میں سے ساز و سامان فراہم کیا تھا۔ کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو اس وقت موجود تھا، جب رومہ کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا، تو میں نے اپنے مال میں سے اس کو خرید کر اسے مسافروں کے لیے (اور تمام مسلمانوں کے لیے) وقف کر دیا تھا۔ تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4443]
ترقیم العلمیہ: 4363
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2778، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2491، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6916، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1534، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3699، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4442، 4443، 4444، 4445، 4446، 4447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 427»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4364 ترقیم الرسالہ : -- 4444
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4444]
ترقیم العلمیہ: 4364
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2778، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2491، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6916، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1534، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3699، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4442، 4443، 4444، 4445، 4446، 4447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 427»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4365 ترقیم الرسالہ : -- 4445
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي النَّسَائِيَّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ فِي دَارِهِ اجْتَمَعَ النَّاسُ حَوْلَ دَارِهِ فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں محصور کر دیا گیا، تو کچھ لوگ ان کے گھر کے آس پاس اکٹھے ہوئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف جھانک کر دیکھا۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4445]
ترقیم العلمیہ: 4365
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2778، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2491، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6916، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1534، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3699، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4442، 4443، 4444، 4445، 4446، 4447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 427»
«قال ابن حجر: جاء من طرق كثيرة شهيرة صحيحة، الإصابة في تمييز الصحابة: (7 / 102)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں