الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. فَضْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْحَدِيثِ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 304
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے آگے پہنچاؤ، اگرچہ وہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7006»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3461
حدیث نمبر: 305
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَتَحَدِّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبُ مِنْهُ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنی اسرائیل سے بیان کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، تم بنی اسرائیل سے بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پس بیشک تم ان سے جو چیز بھی بیان کرو گے، ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز امور پائے جاتے ہوں گے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا البزار: 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11108»
وضاحت: فوائد: … یہ دو باب مختلف مفہوم رکھنے والی احادیث پر مشتمل ہیں، ایک باب میں بنی اسرائیل کی روایات سے منع کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے باب میں اجازت دی جا رہی ہے، ان میں جمع و تطبیق کی صورتیں یہ ہیں:اخبار و قصص سے متعلقہ اور سبق آموز روایات بیان کرنا درست ہے لیکن یہ چیز ممنوعہ امور میں سے ہیں کہ ان کی احکام پر مشتمل روایات بیان کی جائیں یا ان کو اس انداز میں بیان کیا جائے کہ گویا ان سے حجت پکڑی جا رہی ہو یا قرآن و حدیث کو کافی نہ سمجھتے ہوئے ان کی تعلیم دی جائے یا ان کی وجہ سے اسلامی تعلیمات میںشک ہونے لگے، لیکن یہ شق بھی ضروری ہے کہ اگر ہماری شریعت نے ان کی روایات کی تصدیق یا تکذیب نہ کی ہو تو نہ ان روایات کو سچا سمجھا جائے اور نہ جھوٹا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه مختصرا البزار: 194