الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابٌ فِي أَنْ غَسْلَ الرَّجُلِ مَعَ زَوْجَتِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ لَا يُسَبِّبُ طَهُورِيَّةَ الْمَاءِ
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 373
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ يَتَوَضَّؤُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں نے دیکھا کہ عہد نبوی میں مرد اور عورتیں ایک برتن سے وضو کرتے تھے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 373]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4481»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 193
حدیث نمبر: 374
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ كَانُوا يَتَوَضَّؤُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا
(دوسری سند) بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خواتین و حضرات ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 374]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5799»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5799
حدیث نمبر: 375
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: كَانَ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ يَتَوَضَّؤُنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَيَشْرَعُونَ فِيهِ جَمِيعًا
(تیسری سند) عہد نبوی میں عورتیں اور مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے اور اکٹھے شروع ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4481»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خواتین و حضرات یا صرف خواتین یا صرف مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کر سکتے ہیں۔ لیکن اِن سے بے پردگی کا ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ ممکن ہے کہ وضو کایہ واقعہ پردہ کے احکام کے نزول سے پہلے کا ہو، یا محرم رشتہ دار اس طرح وضو کرتے ہوں، یا غیر محرم اپنی نظروں کی حفاظت کے ساتھ اکٹھے وضو کر لیتے ہوں۔ اس باب میں ان احادیث سے استدلال کیا جا رہا ہے کہ وضو یا غسل سے بچا ہوا پانی طاہر اور مطہِّر ہے، کیونکہ جب ایک آدمی ایک برتن سے وضو یا غسل شروع کرتا ہے تو وہ پانی دوسرے آدمی کیلئے تو اس کی طہارت سے بچا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود دوسرا آدمی اسی پانی سے وضو اور غسل کر رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مائے مستعمل خود بھی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4481