الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابٌ فِي حُكْمِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَحُكْمِ الْوُضُوءِ أَوِ الِاغْتِسَالِ مِنْهُ
ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 393
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساکن پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 393]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14723»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 141
حدیث نمبر: 394
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ) ) وَفِي رِوَايَةٍ: ( (ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ) ) بَدَلَ ( (يَتَوَضَّأَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر وہ اس میں وضو کرے گا۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”پھر وہ اس سے غسل کرے گا۔“ یہ الفاظ «یَتَوَضَّأُ» کی جگہ پر ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 394]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7517»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 282
حدیث نمبر: 395
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کھڑے پانی میں پیشاب نہ کر، جو چلتا نہیں ہے، پھر تو اس میں غسل کرے گا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8171»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَغْتَسِلُ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ وَھُوَ جُنُبٌ۔)) فَقَالُوْا: یَا اَبَاھُرْیَرَۃَ کَیْفَ یَفْعَلُ؟ قَالَ: یَتَنَاوَلُُہٗ تَنَاوُلًا … کوئی آدمی ساکن پانی میں غسل جنابت نہ کرے۔ لوگوں نے کہا: اے ابوہریرہ! تو پھر وہ کیا کرے؟ انھوں نے کہا: وہ وہاں سے پانی لے کر (نہا لے)۔ اور سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَبُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ وَلَایَغْتَسِلْ فِیْہِ مِنَ الْجَنَابَۃِ)) … کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہر گز نہ پیشاب کرے اور نہ اس میں غسل کرے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ساکن پانی میں پیشاب کرنا اور غسل جنابت کرنا منع ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ پانی قلتین سے کم ہوا تو نجس ہو جائے گا اور اگر قلتین سے زیادہ ہوا تو ممکن ہے کہ اس میں پیشاب وغیرہ کرنے کا انجام یہ نکلے کہ اس کا ذائقہ یا بو یا رنگ تبدیل ہو جائے اور اس طرح وہ بھی ناپاک ہو جائے، اگر وہ ناپاک نہ بھی ہو تو فطرت ِ سلیمہ ایسے کرنے کو ناپسند کرتی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8171