الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي بَوْلِ الْإِبِلِ
اونٹ کے پیشاب کا بیان
حدیث نمبر: 463
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَقَالَ (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) : ( (إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ) )
(دوسری سند) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پا لے تو وہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے یعنی اس کو دھو لے اور نماز والا وضو کر لے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 463]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24330»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24330
حدیث نمبر: 464
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: ( (فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ) ) يَعْنِي يَغْسِلْهُ
(تیسری سند) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی اس چیز کو پائے تو اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے اور نماز والا وضو کرے۔“ اس جگہ چھینٹے مارنے سے مراد دھونا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24320»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24320
حدیث نمبر: 465
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَكْرِيِّ قَالَ: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ الْمَذِيَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنِّي رَجُلٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ تَحْتِي، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا، لِعَمَّارٍ أَوِ الْمِقْدَادِ: قَالَ عَطَاءٌ: سَمَّاهُ لِي عَائِشٌ فَنَسِيتُهُ، سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: ( (ذَاكَ الْمَذِيُّ، لِيَغْسِلْ ذَاكَ مِنْهُ) ) ، قُلْتُ: مَا ذَاكَ مِنْهُ؟ قَالَ: ذَكَرَهُ، وَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ أَوْ يَتَوَضَّأُ مِثْلَ وُضُوءِهِ وَيَنْضَحُ فِي فَرْجِهِ أَوْ فَرْجَهُ
عائش بن انس بکری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے مذی کے بارے میں بات چیت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے بہت زیادہ مذی آتی ہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وجہ سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے عقد میں ہے،“ پس انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ یا سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ میں سے ایک کو کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کرے۔ عطا رحمہ اللہ کہتے ہیں: عائش نے تو کسی ایک کا نام لیا تھا، لیکن میں بھول گیا، بہرحال انہوں نے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو مذی ہے، اس کو چاہیے کہ اس کو دھو لیا کرے۔“ میں نے کہا: ”کسی چیز کو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کو، اور اچھی طرح وضو کر لیا کرے اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے یعنی دھویا جائے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 465]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه عبد الرزاق: 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24326»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے مذی سے متعلقہ تین مسائل ثابت ہوتے ہیں: (۱) نیت کے ساتھ عضو ِ خاص اور خصتین کو دھویا جائے گا۔(۲) مذی ناقض وضو ہے۔ (۳) غسل کے وجوب کا مذی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ (۴) اگر مذی کپڑے پر لگ جائے تو چھوٹے بچے کی پیشاب کی طرح اس پر چھینٹے مار دیئے جائیں گے، اس طرح سے وہ کپڑا پاک ہو جائے گا۔ امام شوکانی نے کہا: ((واتفق العلماء علی ان المذی نجس ولم یخالف فی ذالک الا بعض الامامیہ …)) علماء کا اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ مذی نجس ہے، البتہ بعض امامیہ نے اختلاف کیا ہے۔ (نیل الاوطار: ۱/ ۶۳)
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه عبد الرزاق: 597