الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. فَصْلٌ فِي جَوَازِ الذِّكْرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ
وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 501
عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً
ابو سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور پھر پانی کو چھونے سے پہلے قرآن مجید کے کچھ حصے کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18242»
وضاحت: فوائد: … جہاں تک زبانی طور پر اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا مسئلہ ہے تو یہ دونوں کام وضو کے بغیر درست ہیں، مزید دلائل اور آثار سے بھی اس رائے کی تائید ہوتی ہے، البتہ قرآن مجید کو چھونے کے لیے وضو کرنا چاہیے، اس کی وضاحت اپنے مقام پر آئے گی۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره