🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابٌ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ وَلَوْ لَمْ يُنْزِلْ
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 841
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ) )
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاتا ہے اور اپنی ختنے والی جگہ اس کی ختنے والی جگہ سے ملا دیتا ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 841]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24710»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی تمام احادیث کا اصل مدّعا یہ ہے کہ جب میاں بیوی کے ختنوں کے مقامات آپس میں مل جائیں گے تو جنابت والا غسل فرض ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ مرد کے عضو ِ خاص میں ختنے کی وجہ سے کیا تبدیلی آتی ہے۔ اسی طرح عورت کا ختنہ عربوں کے ہاں معروف تھا، لیکن ہمارے ہاں عورتوں کے ختنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ بہرحال صرف دو شرمگاہوں کے ٹکرانے سے غسل واجب نہیں ہو گا، بلکہ یہ غسل اس وقت فرض ہو گا، جب مرد کے ختنے کی جگہ عورت کی شرمگاہ کے اندر داخل ہو گی۔ عورت کی چارشاخوں سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، مثلا: (۱)دونوں ہاتھ اور دونوں ٹانگیں، (۲) دونوں ٹانگیں اور دونوں رانیں، (۳) دونوں پنڈلیاں اور دونوں رانیں، (۴) دونوں رانیں اور شرمگاہ کے دو کنارے، وغیرہ۔ ان الفاظ کی جو مراد بھی لی جائے، یہ اتفاقی قید ہے، غسل اس وقت فرض ہو گا، جب دونوں ختنوں کے مقامات آپس میں مل جائیں اور دخول ہو جائے۔ اس کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو رہی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 349
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 842
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتِ الْحَشْفَةُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ختنے والے دو مقامات مل جاتے ہیں اور حشفہ چھپ جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 842]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6670»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 611
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 843
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَأَجْهَدَ نَفْسَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ جَهَدَهَا) فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ) )
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں میں بیٹھ جائے اور پھر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے (ایک روایت کے مطابق پھر اسے (بیوی کو) مشقت میں ڈالے) تو غسل واجب ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 843]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 291، ومسلم: 348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8557»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 291
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 844
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَى (الْأَشْعَرِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِي مِنْكِ، فَقَالَتْ: سَلْ وَلَا تَسْتَحْيِ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكِ، فَسَأَلَهَا عَنِ الرَّجُلِ يَغْشَى وَلَا يُنْزِلُ، فَقَالَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ) )
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میں آپ سے شرماتا بھی ہوں، انھوں نے کہا: تم سوال کرو اور نہ شرماؤ، میں تمہاری ماں ہی ہوں۔ پھر انھوں نے اس آدمی کے بارے میں سوال کیاجو اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے، لیکن انزال نہیں ہوتا، انھوں نے جواباً کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ختنہ والی جگہ، ختنے والی جگہ سے ٹکرا جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 844]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، واخرج مسلم: 349 المرفوعَ منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25162»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 845
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ) )
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ختنے والی جگہ، ختنے والی جگہ سے آگے بڑھ جائے (یعنی اندر داخل ہو جائے) تو غسل واجب ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار في مسنده: 2675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22396»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه البزار في مسنده : 2675
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 846
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، أَمَّا أَنَا فَإِذَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَذَكَرَ الْغُسْلَ، قَالَ: أَتَوَضَّأُ وَضُوءِي لِلصَّلَاةِ أَغْسِلُ فَرْجِي ثُمَّ ذَكَرَ الْغُسْلَ، وَأَمَّا الْمَاءُ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ فَذَلِكَ الْمَذْيُ وَكُلُّ فَحْلٍ يُمْذِي فَأَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجِي وَأَتَوَضَّأُ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، وَأَمَّا مُؤَاكَلَةُ الْحَائِضِ فَأَأْكُلُهَا) )
سیدنا عبد اللہ بن سعدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوالات کیے: کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے، پیشاب کے بعد آ جانے والے سفید قطروں کا حکم، گھر اور مسجد میں نماز کا حکم اور حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، رہا مسئلہ میرا تو جب میں ایسے ایسے کرتا ہوں تو آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں نماز والا وضو کر تا ہوں، اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور پھر غسل کر لیتا ہوں۔ رہا مسئلہ پیشاب کے بعد نکل آنے والے قطروں کا، تو یہ مذی ہے اور ہر نر کو مذی آ جاتی ہے، میں اس کی وجہ سے اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور وضو کر لیتا ہوں، جہاں تک مسجد اور گھر میں نماز پڑھنے کی بات ہے تو تم دیکھ رہے ہو کہ میرا گھر میری مسجد کے بالکل قریب ہے، لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا، مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ پسند ہے، الا یہ کہ فرضی نماز ہو، اور رہا مسئلہ حائضہ کے ساتھ کھانے پینے کا تو میں تو ایسی بیوی کے ساتھ کھاتا پیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 846]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 211، 212، وابن ماجه: 651، 1378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19216»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 211
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں