الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابٌ فِيمَنْ وَجَدَ لُمْعَةً بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 897
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ، فَلَمَّا خَرَجَ رَأَى لُمْعَةً عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْسَرِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَاءُ فَأَخَذَ مِنْ شَعْرِهِ فَبَلَّهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسلِ جنابت کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ بائیں کندھے پر کچھ جگہ خشک رہ گئی ہے، اس تک پانی نہیں پہنچا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو پکڑا اور اس جگہ کو تر کر دیا، پھر نماز کے لیے روانہ ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، علي بن عاصم ضعيف، وابوعلي الرحبي الواسطي متروك۔ أخرجه ابن ماجه: 663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2180»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۹۵)کی شرح میں وضو میں موالاۃ کے حکم پر بحث کی گئی ہے، وہی حکم غسل جنابت کا ہے، جب تک جسم گیلا ہو تو صرف خشک رہ جانے والی جگہ کو دھویا جا سکتا ہے، اگر کوئی جگہ خشک رہ جائے اور سارا جسم بھی خشک ہو جائے تو دوبارہ غسل کرنا پڑے گا۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف جدا