الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ الْأَكْلَ وَالْعَوْدَ
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو¤کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 906
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ إِنْ شَاءَ
سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کر لیتے تھے، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی حالت میں کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو دھو لیتے، پھر اگر چاہتے تو کھا پی لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 906]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 223، والنسائي: 1/ 139، وابن ماجه: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25221»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 223
حدیث نمبر: 907
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ
۔ (دوسری سند): سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنبی ہوتے اور سونے کا یا کھانے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 305، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25462»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 305
حدیث نمبر: 908
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ) ) قَالَ سُفْيَانُ: أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے دور کو پایا ہے یعنی اس وقت وہ زندہ تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ وَمُوْجِبَاتِهِ/حدیث: 908]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11050»
وضاحت: فوائد: … ۶۳ ھ میں یزید بن معاویہ اور اہل مدینہ کے ما بین حرہ کی لڑائی واقع ہوئی تھی۔ اس باب کی احادیث سے اور حدیث نمبر (۹۰۳) کی شرح میں مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ جنبی آدمی کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھوئے یا وضو کرے، اگر ہاتھوں پر نجاست کے آثار ہوں تو ہاتھ دھونا ضروری ہوں گے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 308