🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ جَامِعِ الْأَوْقَاتِ
جامع اوقات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1098
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَرَّتَيْنِ عِنْدَ الْبَيْتِ) فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ (وَفِي رِوَايَةٍ: حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ) ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! هَٰذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ (وَفِي رِوَايَةٍ: هَٰذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ النَّبِيِّينَ قَبْلَكَ) الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَٰذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل ؑنے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کروائی، پس مجھے نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی کہ سورج ڈھل چکا تھا اور سایہ ایک تسمے کے برابر تھا، نمازِ عصر اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا، نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی، جب روزے دار افطاری کرتا ہے،نمازِ عشاء اس وقت پڑھائی جب شَفَق غائب ہو گئی، نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب روزے دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے، پھر اگلے دن نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، نمازِ عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا، نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی جب روزے دار افطار کرتا ہے، نمازِ عشاء رات کے پہلے ایک تہائی حصے کے وقت میں پڑھائی اور نمازِ فجر اس وقت پڑھائی جب روشنی ہو چکی تھی اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہ آپ سے پہلے والے انبیاء کا وقت ہے، ایک روایت میں ہے: یہ آپ کا اور آپ سے پہلے والے انبیاء کا وقت ہے، ان ہر دو وقتوں کے درمیان متعلقہ نماز کا وقت ہے [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 393، والترمذي: 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3081»

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 393
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1099
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَفِيهِ: ( (وَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةُ فِيمَا بَيْنَ هَٰذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ) )
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: اور (دوسرے دن) نمازِ فجر اس وقت پڑھائی کہ قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جائے اور پھر کہا: اِن دو وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 147، والطبراني في الكبير: 5443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11269»

الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 147
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1100
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّهَا، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَهُ الْعَصْرَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، أَوْ قَالَ: صَارَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْمَغْرِبَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّهْ، فَصَلَّى حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَهُ الْعِشَاءَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّهْ، فَصَلَّى حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ جَاءَهُ الْفَجْرَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّهْ، فَصَلَّى حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ لِلظُّهْرِ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّهْ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّهْ، فَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ: ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْفَجْرِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّهْ، فَصَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَٰذَيْنِ وَقْتٌ) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ جبریلؑ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: کھڑ ے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ ظہر پڑھائی، جب سورج ڈھل گیا تھا، پھر عصر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور عصر کی نماز پڑھو، پس نماز عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا تھا، مغرب کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ نماز اس وقت پڑھی جب سورج غروب ہو گیا، عشا کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ اس وقت پڑھی جب شَفَق غروب ہو گئی، فجر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس یہ نماز اس وقت پڑھی جب فجر طلوع ہوئی، اگلے دن ظہر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، عصر کے وقت آئے اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس نمازِ عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، پھر مغرب کے لیے آئے، جب سورج غروب ہوا، یہ (دو دنوں کا) ایک ہی وقت تھا، اس سے نہ ہٹے، پھر عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب نصف یا ایک تہائی رات گزر چکی تھی، پس اس وقت نمازِ عشا پڑھائی، پھر فجر کے لیے اس وقت تشریف لائے جب بہت روشنی ہو چکی تھی اور کہا: کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، پس اس وقت نمازِ فجر پڑھائی اور پھر فرمایا: اِن ہر دو وقتوں کے درمیان متعلقہ نماز کا وقت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1100]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 150، والنسائي: 1/ 263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14592»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 150
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1101
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغْرُبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرَنَيِ الشَّيْطَانِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہونے تک ہے، یعنی عصر کا وقت شروع ہونے تک، نمازِ عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کی نماز کا وقت شَفَق کے غروب ہونے تک ہے،عشا کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہے، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جا، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6966»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 612
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1102
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نماز کا ایک ابتدائی وقت ہے اور ایک آخری وقت ہے اور نمازِ ظہر کا ابتدائی وقت سورج کا ڈھلنا ہے اور آخری وقت عصر کے وقت کے داخل ہونے تک ہے، عصر کا ابتدائی وقت اس کے داخل ہونے سے شروع ہوتا ہے اور آخری سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کا ابتدائی وقت غروب ِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت افق یعنی شَفَق کے غروب ہونے تک جاری رہتا ہے، عشاء کا ابتدائی وقت غروبِ شفق سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت رات کے نصف ہونے تک جاری رہتا ہے اور نمازِ فجر کا ابتدائی وقت طلوعِ فجر سے شروع ہوتا ہے اور اس کا آخری وقت طلوع آفتاب تک جاری رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1102]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7172»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1103
عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ
مولائے انس ابو صدقہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ ظہر اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز کو اِن دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے جب سورج غروب ہو جاتا تھا، نمازِ عشاء غروبِ شفق کے بعد پڑھتے تھے اور نمازِ فجر طلوعِ فجر سے اس وقت تک پڑھتے تھے، جب نظر وسیع ہو جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1103]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12753»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 273
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1104
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الظُّهْرُ كَأَسْمِهَا وَالْعَصْرُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ كَأَسْمِهَا وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي مَنَازِلَنَا وَهِيَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ وَكَانَ يُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَيُؤَخِّرُ، الْفَجْرُ كَأَسْمِهَا وَكَانَ يُغَلِّسُ بِهَا
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ظہر اپنے نام کی طرح ہے، عصر اس وقت پڑھی جائے گی، جب سورج سفید اور زندہ ہو گا، مغرب اپنے نام کی طرح ہے اور جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِمغرب پڑھ کر اپنے گھروں کو آتے، جبکہ ہمارے گھر ایک ایک میل کے فاصلے پر ہوتے تھے، تو ہم تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی نمازِ عشا جلدی پڑھ لیتے تھے اور کبھی تاخیر کرتے تھے اور فجر بھی اپنے نام کی طرح ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو روشنی ملے اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1104]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه عبدالرزاق: 2056، وابويعلي: 2048، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14296»

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه عبدالرزاق: 2056
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1105
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ وَكَانَ إِذَا رَأَىهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَأَىهُمْ قَدْ أَبْطَأُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز نصف النہار کی سخت گرمی کے وقت ادا کرتے، نمازِ عصر اس وقت ادا کرتے جب سورج صاف ہوتا تھا، مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا، نمازِ عشا کو کبھی تاخیر سے اور کبھی جلدی پڑھ لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی کر لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگ لیٹ ہیں تو تاخیر کر دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر روشنی ملے اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 560، ومسلم: 646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15032»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 560
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1106
عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ (سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ) قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ أَبِي: حَدِّثْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ: كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَيَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ بِالْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، قَالَ: وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَصِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
ابو منہال سیار بن سلام کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ سیدنا ابو برزہ اسلمی ؓکی طرف گیا، میرے باپ نے ان سے کہا: ہمیں یہ بیان کرو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز کس وقت پڑھتے تھے، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ظہر، جس کو تم اَلصَّلَاۃُ الْاُوْلٰی کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور ہم میں سے ایک آدمی مدینہ میں اپنے گھر کی طرف لوٹتا، لیکن سورج ابھی تک زندہ ہوتا۔ سیار کہتے ہیں: مغرب کے بارے میں کہی ہوئی بات کو میں بھول گیا ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کو مؤخر کرناپسند کرتے تھے اور اِس نماز سے پہلے نیند کو اور اِس کے بعد باتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر سے اس وقت فارغ ہوتے تھے، جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہنچان لیتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس نماز میں ساٹھ سے سو آیتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 547، 599، ومسلم: 647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20005»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 547
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1107
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ قَالَ سَيَّارٌ: نَسِيتُهَا، وَالْعِشَاءَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ وَجْهَ جَلِيسِهِ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ، قَالَ سَيَّارٌ: لَا أَدْرِي فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ أَمْ فِي كِلْتَيْهِمَا
۔ (دوسری سند)سیار بن سلامہ کہتے ہیں: میں اور میرا باپ، سیدنا ابو برزہؓ کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ ظہر اس وقت ادا کرتے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عصر پڑھاتے، پھر ایک آدمی مدینہ سے دور واقع اپنے گھر میں جاتا، لیکن سورج ابھی تک زندہ ہوتا تھا، سیار کہتے ہیں: مغرب سے متعلقہ بات کو میں بھول گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس نماز سے پہلے نیند اور اِس کے بعد گفتگو کو ناپسند کرتے تھے، اور آپ صبح کی نماز پڑھاتے پھر آدمی واپس پلٹتا تو وہ اپنے ساتھی کے چہرے کو پہچان لیتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ سیار کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ تلاوت کی یہ مقدار ایک رکعت میں ہوتی تھی یا دو میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20049»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20049
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں