الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَأْخِيرِ الظُّهْرِ وَالْإِيرَادِ بِهَا فِي زَمَنِ الْحَرِّ
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1117
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُمْ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کو نصف النہار کی سخت گرمی کے وقت ادا کرتے تھے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1117]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 680، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27183»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 680
حدیث نمبر: 1118
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَبْرِدُوا بِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَإِنَّ الْحَرَّ (وَفِي لَفْظٍ: فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ) مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ) )
سیدنا صفوان ظہریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو، پس بیشک گرمی (اور ایک روایت کے مطابق سخت گرمی) جہنم کے کھولنے میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 325، والطبراني في الكبير: 7399، والحاكم: 3/ 251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18496»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 325
حدیث نمبر: 1119
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا كَانَ الْحَرُّ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ) فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: بِالظُّهْرِ) فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ) ) وَذَكَرَ: ( (أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ) )
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سخت گرمی ہو جائے تو نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، کیونکہ سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ مزید فرمایا: آگ نے اپنے ربّ سے شکوہ کیا، پس اس نے اس کو ہر سال دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 617، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9956»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 617
حدیث نمبر: 1120
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ) )
سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11078»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 538
حدیث نمبر: 1121
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اس جیسی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 536، ومسلم: 615، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7130»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 536
حدیث نمبر: 1122
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ مَوْلًى لَهُمْ قَالَ: رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَةٍ فَمَرَرْنَا بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فَحَدَّثَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: لِلظُّهْرِ) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَبْرِدْ) ) قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فِي التُّلُولِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ) )
ابو الحسن مہاجرکہتے ہیں: ہم ایک جنازہ سے واپس آتے ہوئے زید بن وہب کے پاس سے گزرے، انھوں نے سیدنا ابو ذرؓ سے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، مؤذن نے نمازِ ظہر کے لیے اذان دینا چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ٹھنڈا کر۔ تین بار فرمایا، یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کے سائے نظر آنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے، اس لیے جب سخت گرمی پڑنے لگے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 539، 629، ومسلم: 616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21772»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 539