🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1185
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ ذِمَّتَهُ، فَإِنَّهُ مَنْ أَخْفَرَ ذِمَّتَهُ طَلَبَهُ اللَّهُ حَتَّى يُكِبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، پس اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ضمانت ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کی ضمانت کو نہ توڑنا اور جس نے اس کی ضمانت کو توڑ دیا تو وہ اس کو طلب کرے گا اوراس کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 3342، وأخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 13210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5898»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1186
عَنْ جُنْدُبِ (بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ) )
سیدنا جندب بن سفیان بَجَلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، پس وہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں آ جاتا ہے، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ نہ دینا اور ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے عہد میں سے کسی چیز کا مطالبہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19010»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1187
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذِمَّتِهِ) )
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں آ جاتا ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو توڑ نہ دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1187]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3946، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20374»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1188
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَا يَشْهَدُهُمَا مُنَافِقٌ) ) يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: يَعْنِي لَا يُوَاظِبُ عَلَيْهِمَا
ابو عمیر بن انس اپنے چچوں، جو کہ صحابہ تھے، سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق ان دو نمازوں میں حاضرنہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد فجر اور عشا کی نمازیں تھیں، ابو بشر راوی نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ منافق اِن دو نمازوں کی ادائیگی پر دوام اختیار نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1188]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20856»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1189
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَوْ جُعِلَ لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ مِرْمَاتَانِ حَسَنَتَانِ أَوْ عَرْقٌ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ لَأَتَوْهَا أَجْمَعُونَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا يَعْنِي الْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ آتِيَ أَقْوَامًا يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا أَوْ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے لیے موٹی تازی بکری کے دو کھر یا کوئی ہڈی بنائی جائے تو یہ سارے لوگ اس کے لیے آ جائیں گے، اگر ان کو پتہ چل جائے کہ عشا اور فجر میں کتنا ثواب ہے تو یہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ ان کو گھسٹ کر آنا پڑے، اور تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں، وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ گئے ہوں اور ان کو جلا دوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 657، ومسلم: 651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10221»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں