🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا وَعِنْدَ الِاسْتِوَاءِ
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1215
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ، وَلَا نِصْفَ النَّهَارِ فَإِنَّهُ عِنْدَ سَجْرِ جَهَنَّمَ) )
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طلوع آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت اس کو کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں، اور نہ غروب ِ آفتاب کے وقت نماز پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کافر لوگ اس وقت اس کو سجدہ کرتے ہیں اور نہ نصف النہار یعنی زوال کے وقت نماز پڑھا کرو، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 832، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22600»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1216
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَتَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ، فَإِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَلَا تُصَلُّوا حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَلَا تُصَلُّوا حَتَّى تَغِيبَ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج کے طلوع اور غروب ہوتے وقت نماز کا قصد نہ کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پس جب سورج کا کنارہ طلوع ہو جائے تو اس کے بلند ہو جانے تک نماز نہ پڑھو، اسی طرح جب سورج کا کنارہ غروب ہونے لگے تو اس کے غائب ہو جانے تک نماز نہ پڑھو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 582، 583، ومسلم: 828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4612»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1217
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا حِينَ تَسْقُطُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي الشَّيْطَانِ وَتَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَي الشَّيْطَانِ) )
سیدہ سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 69973، والطيالسي: 896، وابن ابي شيبة: 2/ 349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20431»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1218
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلَّى إِذَا طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ أَوْ غَابَ قَرْنُهَا، وَقَالَ: ( (إِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ أَوْ مِنْ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ) )
سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا، جب سورج کا کنارہ طلوع ہو رہا ہو یا اس کا کنارہ غروب ہو رہا ہو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22000»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1219
عَنْ بِلَالٍ (بْنِ رِبَاحٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي الشَّيْطَانِ
سیدنا بلال بن رباح ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کسی وقت نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا جاتا تھا، ماسوائے طلوع آفتاب کے وقت کے، کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطيالسي: 1117، وابن ابي شيبة: 2/ 354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24384»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1220
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ مِنْ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ وَمِنْ حِينَ تَصَوَّبُ حَتَّى تَغِيبَ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع کیا، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور اسی طرح (اس وقت بھی نماز پڑھنے سے منع فرمایا) جب وہ غروب کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه بنحوه مسلم: 833، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24964»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں