الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. 2 - بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَالْمُؤَذِّنِينَ وَالْأَئِمَّةِ
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1254
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، فَارْشَدَ اللَّهُ الْإِمَامَ وَعَفَا عَنِ الْمُؤَذِّنِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ امام کی راہنمائی فرمائے اور مؤذن کو معاف کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1254]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 1/ 78، وابو يعلي: 4562، والبيھقي: 1/ 425، وابن خزيمة: 1532، وابن حبان: 1671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24867»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 1/ 78
حدیث نمبر: 1255
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ) )
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے لمبی گردنوں والے مؤذن ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1255]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 354، والطبراني في الاوسط: 4805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12759»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 354
حدیث نمبر: 1256
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16986»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْمُؤَذِّنُوْنَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسلم) سب سے لمبی گردنوں والے مؤذن لوگ ہوں گے کا مفہوم کیا ہے؟ مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں، اگر اس کو حقیقی معنی پر ہی محمول کر لیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا، کیونکہ آج بھی مناسب حد تک گردن کا لمبا ہونا حسنکی علامت ہے۔مزید کچھ مفاہیم درج ذیل ہیں:
کثیر اجرو ثواب والے
سب سے زیادہ اعمال والے
یہ الفاظ ان کی سرداری سے کنایہ ہیں، کیونکہ عرب لوگ سیادت کو لمبی گردنوں سے تعبیر کرتے رہتے ہیں۔ان سے مرادیہ ہے کہ ان کو فرحت و مسرت نصیب ہو گی اور وہ ندامت و پشیمانی سے محفوظ رہیں گے۔ جب لوگوں کے منہوں تک پسینہ پہنچے گا تو مؤذنوں کی گردنیں لمبی ہو جائیں گی، تاکہ وہ اس کرب و اذیت سے محفوظ رہیں۔ واللہ اعلم۔
کثیر اجرو ثواب والے
سب سے زیادہ اعمال والے
یہ الفاظ ان کی سرداری سے کنایہ ہیں، کیونکہ عرب لوگ سیادت کو لمبی گردنوں سے تعبیر کرتے رہتے ہیں۔ان سے مرادیہ ہے کہ ان کو فرحت و مسرت نصیب ہو گی اور وہ ندامت و پشیمانی سے محفوظ رہیں گے۔ جب لوگوں کے منہوں تک پسینہ پہنچے گا تو مؤذنوں کی گردنیں لمبی ہو جائیں گی، تاکہ وہ اس کرب و اذیت سے محفوظ رہیں۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم387
حدیث نمبر: 1257
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى مَعَهُ) )
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں اور مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے، اور اس کو سننے والی خشک اور ترچیز اس کی تصدیق کرتی ہے، اور اسے اس کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کا اجرو ثواب بھی ملے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ((وله مثل اجر من صلي معه))۔ وھذا اسناد ضعيف۔ قتاده بن دعامة مدلس، وقد عنعن، وفي سماعه من ابي اسحاق السبيعي نظر۔ أخرجه النسائي: 2/ 13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18700»
وضاحت: فوائد: … اذان کے کئی فضائل کے باوجود اذان دینے کے سلسلے میں عجیب قسم کی بے رغبتی پائی جاتی ہے، شاید بعض لوگ ایسے بھی ہوں کہ نہ انھوں نے زندگی بھراذان دی ہو گی اور نہ ان میں اس کی تڑپ پیدا ہوئی ہو گی۔ (العیاذ باللہ تعالی) رہا مسئلہ پہلی صف کا، تو جس مسجد میں نمازیوں کی دو تین صفیں بن جاتی ہیں، وہاں اکثر طور پر ابتدائے نماز کے وقت پانچ چھ نمازی ہوتے ہیں اور کئی لوگ پہلے پہنچ جانے کے باوجود پچھلی صفوں میں بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں، بالخصوص جمعۂ مبارکہ کا خطبہ سنتے وقت۔ یہ سب امور دین میں بے رغبتی کی صورتیں ہیں۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: … اس بات پر بھی بڑا تعجب ہے کہ علمائے اسلام اور مبلغ حضرات نے بھی عملی طور پر اس عظیم عبادت اور شعارِ اسلام سے بے رخی اختیار کر رکھی ہے، بہت کم دیکھا گیا ہے کہ کوئی عالم کسی مسجد میں اذان دے رہا ہو، بلکہ بسااوقات وہ اذان دینے سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور انھیں تعجب ہوتا ہے کہ وہ یہ نیکی کریں، لیکن امامت کی باری آتی ہے تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بلکہ جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا شکوہ دائر کرواتے ہیں کہ اس زمانے میں اتنی اجنبیت کیوں پائی جا رہی ہے۔ (صحیحہ: ۴۲)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ((وله مثل اجر من صلي معه))۔ وھذا اسناد ضعيف۔ قتاده بن دعامة مدلس