الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ التَّغْلِيظِ فِي الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي وَبَيْنَ سُتْرَتِهِ
نمازی اور اُس کے سترہ کے در میان سے گزرنے کے متعلق سختی کا بیان
حدیث نمبر: 1494
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو جُحَيْمِ بْنُ أُخْتِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ مَا سَمِعَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَأَنْ يُقْعَدَ أَرْبَعِينَ) ) لَا أَدْرِي مِنْ يَوْمٍ أَوْشَهْرٍ أَوْسَنَةٍ ( (خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ) )
بسر بن سعدکہتے ہیں کہ سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بھانجے ابو جہیم نے مجھے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اگر (گزرنے والا) چالیس کھڑا رہے تو یہ اس کے لیے گزر جانے سے بہتر ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ چالیس دن مراد ہیں یا مہینےیا سال۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 510، ومسلم: 507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17051، 17540)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17177»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 510
حدیث نمبر: 1495
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ كَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِائَةَ عَامٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْطُوَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی آدمی کو اس گناہ کا پتہ چل جائے جو اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرنے والے کے آگے سے گزر جانے کی وجہ سے ہوتا ہے تو اسے ایسا قدم اٹھانے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند ہو گی کہ وہ اس مکان پر سو سال کھڑا رہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8824»
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8824
حدیث نمبر: 1496
عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ قَالَ: لَقِيْتُ رَجُلًا مُقْعَدًا بِتَبُوكَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ فَقَالَ: ( (قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ) ) فَأُقْعِدَ
یزید بن نمران رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں تبوک میں چلنے سے قاصر ایک معذور آدمی کو ملا اور اس سے (اس معذوری کے متعلق) دریافت کیا۔ اس نے کہا: میں گدھی یا گدھے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزرا، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز قطع کردی ہے،اللہ تعالیٰ اس کے چلنے کو قطع کر دے۔ پس میں معذور ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16725»
وضاحت: فوائد: … شام کے ایک دیہاتی علاقے کا نام تبوک ہے، یہ علاقہ مدین کے قریب پڑتا ہے۔ اس معاملے میں تاکید اورمبالغہ پیدا کرنے کے لیے چالیس کا مطلق طور پر ذکر کیا گیااور گھڑییا دن یا مہینےیا سال کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی گئی۔ جن روایات میں سال کا ذکر ملتا ہے، وہ ضعیف ہیں۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16725