🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ صَلَّى خَلْفَهُ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ مُرُورُ شَيْءٍ
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1500
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اور فضل گدھی پر سوار ہو کر آئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر اس سے اترے، اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور ہم صف میں داخل ہوگئے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4412، ومسلم: 504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1891)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1891»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4412
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1501
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلْمَ أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ يَعْنِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا فَرَتَعَتْ فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں اسی حالت میں پہلی صف کے بعض حصے کے سامنے آ پہنچا، وہاں اس سے اترا، وہ چرنے لگی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1857 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2376)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2376»
وضاحت: فوائد: … یہ شریعت کی کمال رخصت ہے کہ مقتدی لوگوں کو سترہ نہ رکھنے کی رخصت دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ دورانِ جماعت مقتدی کے سامنے سے گزرنا جائز ہے، حدیث نمبر (۴۲۶) مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران جماعت بکری کے بچے کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے یعنی پہلی صف کے لوگوں کے سامنے سے گزر گیا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1857 وانظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1503
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا أَوْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ اور بنوہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر تھے، وہ گدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزر گیا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے نہ نکلے، اتنے میں بنو عبد المطلب کی دو لڑکیوں نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کر دیا اورنماز سے نہ نکلے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 716، 717، والنسائي: 2/ 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3167)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3167»

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1505
عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، قَالَ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِللنَّاسِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ وَخَلَّيْتُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُتِ الصُّفُوفَ حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجَرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: أَفَلَا تَقُولُونَ: الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟
حسن عرنی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتی ہیں، وہ کہنے لگے: بری بات ہے کہ تم نے مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر کردیا ہے، میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں گدھے پر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں آپ کے سامنے قریب ہوگیا تو میں اس سے اترا اور اسے چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اپنی نماز دہرائی اور نہ مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور ایک دفعہ یوں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بچی صفوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ لی، اس سے بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز دہرائی اور نہ اسے ایسا کرنے سے منع کیا۔ ایک اور واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی حجرے سے ایک بکری کا بچہ نکل آیا اور آپ کے سامنے سے گزر نے لگا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے روک دیا۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نماز توڑ دیتا ہے؟ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم، لكنه متابع، ثم ھو منقطع۔ أخرجه الطبراني: 12703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2222، 2804)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2222»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے بچے کو بھی دورانِ نماز سامنے سے گزرنے سے روکا ہے، اس لیے لوگوں کو یہ بھی کہنا چاہیے کہ اس سے بھی نماز منقطع ہو جاتی ہے۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حدیث تو ثابت ہے کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتے ہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ مختلف الزامی امور کا تذکرہ کر رہے ہیں، گدھے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قریب ہوجانا، اس سے گزرنا لازم نہیں آتا، بچی کامعاملہ تو اسے شعور نہ ہونے کی وجہ سے واضح ہے۔ کون سے امور نماز کو قطع کر دیتے ہیں؟ اس تفصیل کا بیان باب مبطلات الصلاۃ میں ہو گا۔

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں