الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ جَامِعِ صِفَةِ الصَّلَاةِ
نماز کے جامع طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 1520
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُهُ وَهُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لَهُ: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا صُحْبَةً وَلَا أَكْثَرَنَا لَهُ تِبَاعَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَى بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَرَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَصُبَّ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ رَفَعَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ جَافَى وَفَتَحَ عَضُدَيْهِ عَنْ بَطْنِهِ، وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَضْوٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ نَهَضَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا الصَّلَاةُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا ثُمَّ سَلَّمَ
محمد بن عطاء کہتے ہیں: سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس صحابہ میں موجود تھے، ان میں ایک سیّدنا ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ تھے، سیّدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ لیکن انھوں نے کہا:تم نہ تو ہماری بہ نسبت قدیم صحبت والے ہو اور نہ ہم سے زیادہ آپ کی پیروی کرنے والے ہو۔ توانہوں نے کہا: کیوں نہیں، (یہ تمہاری بات تو ٹھیک ہے)۔ بہرحال ان لوگوں نے کہہ دیا کہ اچھا بیان کرو۔ سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہوتے اور اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے برابر کرتے، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ اپنے کندھوں کے برابر کرتے پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرتے اوررکوع میں برابر ہوجاتے، نہ اپنا سر زیادہ جھکاتے اور نہ زیادہ بلند کرتے اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر اٹھتے اور برابر ہوجاتے حتی کہ ہر ہڈی سیدھی ہوکر اپنی جگہ پر لوٹ آتی، پھر سجدہ کرتے ہوئے نیچے جاتے اور اللہ اکبر کہتے، پھر اپنے بازو اپنے پیٹ سے دور اور کھول کر رکھتے، اور پاؤں کی انگلیاں (قبلہ کی طرف) موڑ کر رکھتے، پھر (سجدہ سے اٹھ کر) بایاں پاؤں موڑ لیتے اور اس پر بیٹھ جاتے اور برابر ہو جاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر جاتی،، پھر سجدہ کرتے ہوئے نیچے جاتے او راللہ اکبر کہتے، پھر اپنا پاؤں موڑ لیتے اور اس پر بیٹھ جاتے حتی کہ ہر عضو اپنی جگہ کی طرف لوٹ آتا، پھر اٹھتے تو دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے۔ جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور انہیں کندھوں کے برابر کرتے جیسے نماز کے شروع میں کرتے تھے، پھر ایسے ہی کرتے حتی کہ جب وہ آخری رکعت ہوتی جس میں نماز کا اختتام ہوتا تو اپنا بایاں پاؤں (نیچے سے دائیں طرف) نکالتے اور اپنی سرین پر تورک کی حالت میں بیٹھ جاتے پھر سلام پھیرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 730، 963، وابن ماجه: 862، والترمذي: 304، والنسائي: 2/ 187 (23599)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23997»
وضاحت: فوائد: … ان روایات میں نماز کا جامع سا طریقہ بیان کیا گیا ہے، مختلف قسم کی احادیث مذکور ہیں، تفصیلی گفتگو بعد والے مخصوص ابواب میں کی جائے گی۔ رفع الیدین کے مسئلہ میں آخری حدیث قابل توجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد دس صحابہ کرام اس نماز کے نبوی ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں، جس میں رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کیا گیا، اس سنت کے منسوخ ہونے کا دعوی کرنے والوں کو ہوش کرنا چاہیے۔ آخری حدیث کے آخری جملے میں تورک کا ذکر ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: اِقْعَائ کی طرح تَوَرُّک کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک صورت جائز ہے، جبکہ دوسری جائز۔ جائز صورت:نمازی کا آخری تشہد میں دائیں کولھے کو دائیں پیر پر اس طرح رکھناکہ وہ کھڑا ہو اور انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو، نیز بائیں کولھے کو زمین پر ٹیکنا اور بائیں پیر کو پھیلا کردائیں پنڈلی کے نیچے سے دائیں طرف نکالنا۔ اس حدیث میں اسی صورت کا ذکر ہے۔ تورّک کی ناجائز صورت: نماز میںکھڑے ہو کر دونوں ہاتھوںکو دونوں کولھوں کے برابر رکھنا۔
فَصْلٌ مِنْہُ فِیْ حَدِیْثِ الْمُسِیْئِ فِیْ صَلَاتِہٖ
مُسِیْئُ الصّلَاۃ کی حدیث کے متعلق اسی باب کی ایک فصل
تنبیہ: درج ذیل حدیث میں جس صحابی کا ذکر ہے، اس نے اچھے انداز میں نماز ادا نہیں کی تھی، اس لیے اس کو مُسِیْئُ الصّلَاۃ کہتے ہیں، اس کے لفظی معنی ہیں: نماز کو خراب کرنے والا۔ آج کل اکثر لوگوں کی نمازوں میں اس قسم کی خرابیاں پائی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا۔
فَصْلٌ مِنْہُ فِیْ حَدِیْثِ الْمُسِیْئِ فِیْ صَلَاتِہٖ
مُسِیْئُ الصّلَاۃ کی حدیث کے متعلق اسی باب کی ایک فصل
تنبیہ: درج ذیل حدیث میں جس صحابی کا ذکر ہے، اس نے اچھے انداز میں نماز ادا نہیں کی تھی، اس لیے اس کو مُسِیْئُ الصّلَاۃ کہتے ہیں، اس کے لفظی معنی ہیں: نماز کو خراب کرنے والا۔ آج کل اکثر لوگوں کی نمازوں میں اس قسم کی خرابیاں پائی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 1521
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقَالَ: ( (ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ) ) فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَٰذَا فَعَلِّمْنِي، قَالَ: ( (إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمِئَنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا او ر فرمایا: واپس جاکر دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس چلا گیا،اس نے تین دفعہ یہی کام کیا، بالآخراس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس سے بہتر ادا نہیں کرسکتا، اس لیے آپ مجھے سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اللہ اکبر کہہ پھر جتنا میسر ہو قرآن کی تلاوت کر، پھر رکوع کر حتی کہ رکوع کی حالت میں مطمئن ہوجائے، پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے، جب(رکوع سے) اٹھو تو کھڑے ہو کر برابر ہو جایا کر، پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے، پھر (سجدہ سے) اٹھ کر بیٹھ حتی کہ بیٹھنے کی حالت میں مطمئن ہوجا، پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کر۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 757، 793 ومسلم: 397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9635)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9633»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں مطلق طور پر قرآن مجید تلاوت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سورۂ فاتحہ کی قید نہیں لگائی گئی، اس حدیث کے اگلے طرق پر غور کریں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 757
حدیث نمبر: 1522
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ) ) قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى كَنَحْوٍ مِمَّا صَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: ( (أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ) ) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: ( (إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ، فَإِذَا رَكَعْتَ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ وَمَكِّنْ لِرُكُوعِكَ فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا، وَإِذَا سَجَدْتَّ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ) )
صحابیٔ رسول سیّدنا رفاعہ بن رافع زرقی ر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ کے قریب نماز پڑھی، اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دوبارہ پڑھو، کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ وہ واپس تو چلا گیا، لیکن پہلے کی طرح نماز ادا کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا، آپ نے پھر فرمایا: نماز دوبارہ پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز ادا کروں؟ آپ نے فرمایا: جب تو قبلہ رخ ہوجائے تو اللہ اکبر کہہ، پھر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کر اور اس کے بعد جتنا چاہے قرآن پڑھ سکتا ہے، جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ، اپنی کمر کو پھیلا دے اور اپنے رکوع میں پوری طرح مطمئن ہو جا، جب تو اپنا سر اٹھائے تو اپنی کمر کو سیدھا کر حتی کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں کی طرف لوٹ آئیں، جب سجدہ کرے تو مکمل اطمینان کے ساتھ سجدہ کر،پھر جب تو اپنا سر اٹھائے تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ جا، پھر اسی طریقے کے مطابق رکوع اور سجدے کیا کر۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 858، 861، والنسائي: 2/ 20، وابن ماجه: 460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18995)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19204»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے ان الفاظ ((ثُمَّ اِقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اِقْرَأَ بِمَاشِئْتَ)) یعنی: پھر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کر اور پھر (قرآن میں سے) جو چاہے۔ سے پتہ چلتا ہے کہ جن روایات میں صرف یہ الفاظ ہیں: پھر (قرآن میں سے) جو آسان لگے اس کی تلاوت کر وہ کسی راوی کا اختصار ہیں، اصل اور تفصیلی روایت میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مزید تلاوت کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1523
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ: ( (ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ) ) قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْفِي الرَّابِعَةِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! لَقَدْ أَجْهَدْتُ نَفْسِي فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ: ( (إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ قُمْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَٰذَا فَقَدْ أَتْمَمْتَهَا، وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَٰذَا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ) )
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے،ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے مسجد کے کونے میں نماز پڑھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، جب اس نے آکر سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس چلا جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے دو یا تین مرتبہ ایسے ہی فرمایا، بالآخر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں نے حسب استطاعت بہت کوشش کی ہے، تو پھر آپ خود ہی مجھے تعلیم دے دیں اور دکھا دیں کہ میں نماز کیسے پڑھوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: جب تو نماز کا ارادہ کرے تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہہ، پھر قراءت کر، پھر رکوع کر حتی کہ رکوع کی حالت میں تو مطمئن ہوجائے، پھر کھڑا ہو جا حتی کہ قومہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے،پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجا، پھر اٹھ حتی کہ جلسہ میں مطمئن ہوجائے، پھر کھڑا ہوجا (اور اپنی نماز جاری رکھ)،جب تو نے اپنی نماز اس (طریقے) پر پوری کی تو (اس کا مطلب ہو گا کہ) تو نے اسے مکمل کرلیا ہے اور تو ان امور میں سے جس جس کی کمی کرتا جائے تو حقیقت میں تو اپنی نماز میں کمی کرے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1523]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18997)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19206»
وضاحت: فوائد: … سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی مرتبہ ہی اس شخص کو صحیح نماز کی تعلیم کیوں نہیں دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکمت و دانائی سے متصف اور لوگوں کے مزاج کو سمجھنے والے تھے۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وعظ و نصیحت کی جو صورت اپنائی وہ اس آدمی کے لیے زیادہ مفید تھی، اس طرح سے محافظت اور اہتمام کا زیادہ امکان تھا۔ ان احادیث میں بھی عملی نماز کا ایک جامع سا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ قارئین کو یہ نقطہ ذہن نشین کر لیناچاہیے کہ مسیء الصلاۃ کی حدیث نماز کے تمام فرائض و واجبات اور سنن و مستحبّات کا احاطہ نہیں کیا گیا، بلکہ صرف ان امور کا ذکر کیا گیا، جو اس سائل کو سمجھانا ضروری تھے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح