🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ
مغرب میں قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ بَعْضَ إِخْوَتِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ بَهْزٌ فِي فِدَاءِ أَهْلِ بَدْرٍ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَمَا أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالطُّورِ قَالَ فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حَيْثُ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ، وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حِينَ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بدر والے (قیدی) مشرکوں کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا توآپ نمازِ مغرب پڑھا رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے، یہ قرآن سن کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹنے لگا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: فكأنما صدع قلبي حيث سمعت القرآن۔ أخرجه الطيالسي: 943، وابو يعلي: 7407، وأخرجه البخاري: 4854، ومسلم: 463 بذكر الطور في المغرب فقط۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16735، 16785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16907»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے دل کییہ کیفیت سماعِ قرآن کی تأثیر کی وجہ سے تھی، جبکہ وہ اس وقت مسلمان بھی نہیں تھے، ہم کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جبکہ ہم مسلمان بھی ہیں۔ سورۂ طور کے دو رکوع اور انچاس آیات ہیں۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: فكأنما صدع قلبي حيث سمعت القرآن ۔ أخرجه الطيالسي: 943
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا ابْنُ جُرَيجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ لَهُ: مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِطُولَي الطُّولَيَيْنِ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ لِعُرْوَةَ) مَا طُولَا الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ الْأَعْرَافُ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھے نماز مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے ہی سنتا ہوں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سورۂ اعراف ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 764، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21980»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 764
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1628
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَوْ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ
سیدنا ابو ایوب یا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی دو رکعتوں میں سورۂ اعراف کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23940»
وضاحت: فوائد: … سورۂ اعراف کے چوبیس رکوع اور (۲۰۶) آیتیں ہیں۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث رقم: 575
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1629
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ! لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَٰذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا آخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام فضل بنت حار ث رضی اللہ عنہا نے مجھے سورۂ مرسلات کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھے(یہ بات) یاد کرادی ہے کہ یہ آخری سورت ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 763، ومسلم: 462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27422»
وضاحت: فوائد: … سورۂ مرسلات کے دو رکوع اور پچاس آیات ہیں۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1630
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلَّى بَعْدَهَا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث: «أخطأ موسي بن داود الضبي، فأدخل حديثا في حديث۔ فقولھا: صلي بنا رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في بيته متوشحا في ثوب، انما ھو من حديث انس، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 13260)، وأما حديث: قرأ رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في المغرب سورة المرسلات، فھو من حديث ام الفضل، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 26868) أما ھذا الحديث، فأخرجه النسائي: 2/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27408»

الحكم على الحديث: أخطأ موسي بن داود الضبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1631
عَنْ حَنْظَلَةَ السُّدُوسِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ: إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِـ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ، اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ
حنظلہ سدوسی کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے کہا کہ میں مغرب کی نماز میں سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت کرتا ہوں، لیکن لوگ مجھ پر اس کا عیب لگاتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، تو ان کو پڑھ سکتا ہے، کیونکہ یہ قرآن سے ہیں۔مجھے تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں صرف سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حنظلة السدوسي۔ أخرجه البيھقي: 2/ 61 مختصرا بالمرفوع فقط، وأخرجه بطوله ابن خزيمة513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2550»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے، پہلے اس کی وضاحت کی جا چکی ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف حنظلة السدوسي۔ أخرجه البيھقي: 2/ 61 مختصرا بالمرفوع فقط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1632
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ! لَمْ تُقْرَأْ سُورَةٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَبْلَغُ عِنْدَهُ مِنْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} قَالَ يَزِيدُ: لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا، وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَأُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ) )
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عتبہ بن عامر!کوئی ایسی سورت نہیں پڑھی گئی جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند اور سب سے زیادہ بلیغ ہو، ما سوائے سورۂ فلق کے۔ (یہ حدیث سننے کے بعد) ابو عمران اس سورت کو نہیں چھوڑتے تھے اور ہمیشہ نماز مغرب میں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 254، والدارمي: 3439 (17241، 17418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17554»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 254
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں