🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ حُكْمِ مَا يَطْرَأُ عَلَى الْإِمَامِ فِي الْقِرَاءَةِ وَحُكْمِ الْفَتْحِ عَلَيْهِ
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1656
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْفَجْرِ فَتَرَكَ آيَةً فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ( (أَفِي الْقَوْمِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ؟) ) قَالَ أُبَيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نُسِخَتْ آيَةُ كَذَا أَوْ نَسِيتَهَا؟ قَالَ: ( (نَسِيتُهَا) )
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی اور ایک آیت چھوڑ گئے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: کیا لوگوں میں ابی بن کعب ہیں؟ سیدنا ابی نے کہا: اے اللہ کے رسول!فلاں آیت منسوخ ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے بھول گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1656]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي في الكبري: 8240، والبخاري في القراء ة خلف الامام: 193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15439»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي في الكبري : 8240
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي الْفَجْرِ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا بَلَغَ ذِكْرَ مُوسَى وَهَارُونَ أَصَابَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن نمازِ فجرمیں سورۂ مومنون کی تلاوت شروع کی، جب موسی اور ہارونm کے تذکرے تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آ گئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں رکوع کر دیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15393، 15394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15468»
وضاحت: فوائد: … سورۂ مومنون کی (۴۴) آیتوں کے بعد ان دو انبیاء کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی لاحق ہونے والی مجبوری کی وجہ سے امام مزید قیام کا ارادہ ترک کر کے رکوع کر سکتا ہے اور ایسے ہی کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 455
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
عَنْ مُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ آيَةً، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: ( (فَهَلَّا ذَكَّرْتَنِيهَا؟) )
سیدنا مسوّر بن یزید اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور (تلاوت کرتے ہوئے) ایک آیت چھوڑ دی۔ (جب فارغ ہوئے تو)ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فلاں فلاں آیت کو چھوڑ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو نے مجھے یاد کیوں نہیں کروا دیا تھا؟! [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يحييٰ بن كثير الكاھلي2222۔ أخرجه ابوداود: 907، وابن حبان: 2240، وابن خزيمة: 1648، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16812»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، پس اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراء ت کی، لیکن قراء ت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خلط ملط ہونے لگی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی سے فرمایا: ((اَصَلَّیْتَ مَعَنَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَمَا مَنَعَکَ؟)) … کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تجھے کس چیز نے اس سے روکا (کہ تو مجھے لقمہ دے)؟ (ابوداود: ۹۰۸) صحیح ابن حبان کے الفاظ یوں ہیں: ((فَمَا مَنَعَکَ اَنْ تَفْتَحَ عَلَیَّ؟)) احناف کا مسلک: لقمہ دینے سے نماز باطل ہو جائے گی، الّا یہ کہ لقمہ دینے والا تلاوت کا ارادہ کر لے۔ یہ فرق کرنا خواہ مخواہ کا تکلف ہے، جس نبی نے نماز میں جان بوجھ کر دوسرے سے کلام کرنے سے منع قرار دیا، اسی نے امام کو لقمہ دینے کو مشروع قرار دیا۔ امام شوکانی نے کہا: دلائل کا تقاضایہ ہے کہ امام کی جہری قراء ت میں بھولنے کی صورت میں اس کو لقمہ دینا مشروع ہے، تاکہ اسے وہ آیتیاد آ جائے اور جب وہ ارکان وغیرہ میں بھول جائے تو مرد سبحان اللہ کہہ کر اور عورت تالی بجا کر اس کو متنبہ کریں۔ واللہ اعلم۔ (نیل الاوطار: ۲/ ۳۷۳) شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک امام کو لقمہ دینا درست ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يحييٰ بن كثير الكاھلي2222۔ أخرجه ابوداود: 907
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں