الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَاب حَذْفِ السَّلَامِ وَكَرَاهَةِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ معه
سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 1834
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کی تخفیف سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1834]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف قرة بن عبد الرحمن۔ أخرجه ابوداود: 1004، وبأثره: قال عيسي: نھاني ابن المبارك عن رفع ھذ الحديث، وأخرجه مرفوعا ابن خزيمة: 734، والحاكم: 1/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10898»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سلام کے الفاظ کو لمبا کر کے ادا نہ کیا جائے، بلکہ امام کو چاہیے کہ وہ مناسب جلدی کے ساتھ سلام کہہ دے۔ اہل علم نے اسی صورت کو مستحب سمجھا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف قرة بن عبد الرحمن۔ أخرجه ابوداود: 1004
حدیث نمبر: 1835
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِأَيْدِينَا يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ أَلَا يَسْكُنُ أَحَدُكُمْ وَيُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى صَاحِبِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ) )
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تو ہاتھوں کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کر کے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیاحال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیا تم میں سے ہر ایک کو یہ صورت کفایت نہیں کرتی کہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور دائیں بائیں سلام پھیر دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21091»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 431
حدیث نمبر: 1836
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نَقُولُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمْنَا: السَّلَامَ عَلَيْكُمْ يُشِيرُ أَحَدُنَا بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا بَالُ الَّذِينَ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ، أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ) )
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں جب سلام پھیرتے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے اور ہم میں سے ہر کوئی اپنے ہاتھ سے دائیں اور بائیں اشارہ بھی کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں سے یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیاتم میں سے ایک فرد کو اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور پھردائیں بائیں سلام پھیر دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1836]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21281»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم واضح ہے اور ہمارے ہاں اسی سنت کے مطابق سلام پھیرا جاتا ہے۔ ایک تنبیہ ضروری ہے کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی اس موضوع سے متعلقہ مختصر روایت سے احناف نے یہ استدلال کشید کرنے کی کوشش کی ہے کہ رکوع والے رفع الیدین سے منع کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ان کا یہ استدلال انتہائی کمزور ہے، کیونکہ تفصیلی روایت میں سلام کے وقت اشارہ کرنے کی وضاحت موجود ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول