الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْمُخَطَّطِ وَفِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَفِي ثَوْبٍ بَعْضُهُ عَلَى
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
حدیث نمبر: 1960
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بُرْدَةٍ حِبْرَةٍ قَالَ أَحْسَبُهُ عَقَدَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دھاری دار یمنی چادرمیں نماز پڑھی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کے درمیان گرہ لگائی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1960]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 2140، والترمذي في الشمائل: 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11945، 13510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11967»
وضاحت: فوائد: … دوکناروں کے درمیان گرہ لگانے سے مراد توشیح ہے، جس کی تعریفیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈال دیا جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دی جائے۔ لباس کا مکمل بیان شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب میں گزر چکا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 2140
حدیث نمبر: 1961
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ آخری نماز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں پڑھی تھی وہ ایک کپڑے میں تھی، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توشیح کر رکھی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1961]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم۔ أخرجه النسائي: 2/ 79، والترمذي: 363، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12617، 13556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13591»
وضاحت: فوائد: … توشیح کا بیان اوپر والی حدیث میں گزر چکا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1962
عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَٰكَذَا
ابراہیم بن ابو ربیعہ کہتے ہیں: ہم سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ پر داخل ہوئے اور وہ ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر علیحدہ رکھی ہوئی تھی، میں نے کہا: آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1962]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 311، وابو يعلي: 4030، والبزار: 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12305»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 311
حدیث نمبر: 1963
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَلْيَجْعَلْ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کے دونوں کناروں کے درمیان مخالفت ڈالے اور ان کے کناروں کو کندھوں پر ڈال دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1963]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11132»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ لِبَعْضِ نِسَائِهِ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ، قَالَ سُفْيَانُ أُرَاهُ قَالَ حَائِضٌ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حال میں نماز پڑھی کہ آپ پر آپ کی کسی بیوی کی چادر تھی اور اس کا کچھ حصہ اس بیوی پر تھا، سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا تھا کہ وہ حائضہ تھیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1964]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 333، 379، 517، ومسلم: 513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26804، 26806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27340»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 333
حدیث نمبر: 1965
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: سَمِعْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا وَهِي مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَتِهِ إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي طَرَفُ ثَوْبِهِ
عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ وہ حائضہ ہوتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سجدہ گاہ کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی تھی، جبکہ آپ اپنی چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے کا ایک کنارہ مجھے لگ جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1965]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27342»
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق: 871
حدیث نمبر: 1966
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثِيَابُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، جب کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوتی تھے، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے مجھے لگ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27343»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اگر نماز کا کپڑا حائضہ کو لگ رہا ہو تواس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق: 871