الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ حُجَّةِ الْقَائِلِينَ بِمَشْرُوعِيَّةِ سُجُودِ التِّلَاوَةِ فِي سُوَرِ الْمُفَصَّلِ
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 2018
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ الْمُسْلِمُونَ إِلَّا رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ فَسَجَدَ عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَرَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ قریش کا ایک آدمی تھا، اس نے مٹھی بھر مٹی اپنی پیشانی کی طرف اٹھائی اور اسی پر سجدہ کر لیا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تھا کہ وہ آدمی بحالت ِ کفر قتل ہو گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4863، ومسلم: 576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3682، 4164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3682»
وضاحت: فوائد: … سجدۂ تلاوت نہ کرنے والا یہ شخص امیہ بن خلف تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4863
حدیث نمبر: 2019
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ إِلَّا رَجُلَيْنِ أَرَادَا الشُّهْرَةَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ نجم پڑھی اورسجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، البتہ دو آدمیوں نے سجدہ نہیں کیا تھا، ان کا مقصد شہرت طلبی تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8021»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 353
حدیث نمبر: 2020
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَكَانَ بَعْدُ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَهَا إِلَّا سَجَدَ
سیدنا مطلب بن ابو وداعہ سہمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں سورۂ نجم کی تلاوت کی اورسجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے پاس تھے، انہوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ میں نے اپنا سر اٹھا لیا تھا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ دراصل سیدنا مطلب رضی اللہ عنہ ان دنوں مسلمان نہیں ہوئے تھے، قبولیت ِ اسلام کے بعد وہ جب بھی کسی کواس کی تلاوت کرتے سنتے توسجدہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، جعفر بن المطلب بن ابي وداعة السھمي مقبول۔ أخرجه النسائي: 2/ 160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15544»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2021
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَقَالَ الْمُطَّلِبُ: فَلَا أَدَعُ السُّجُودَ فِيهَا أَبَدًا
۔ (دوسری سند)سیدنا مطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: قبولیت ِ اسلام کے بعد میں نے اس سورت میں کبھی بھی سجدہ ترک نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2021]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا سند منقطع، عكرمة لم يسمع من المطلب، وبينھما جعفر بن المطلب ابن ابي وداعة كما في سند الحديث بالطريق الاول۔ أخرجه الحاكم: 3/ 663، وعبد الرزاق: 5881، والطبراني في الكبير: 20/ 679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15543»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2022
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} وَ{اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ}
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سورۂ انشقاق اور سورۂ علق میں سجدۂ تلاوت کیے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2022]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 2/ 162، وابن خزيمة: 554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9940»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ قرآن مجید کے مفصل حصے کی تین سورتوں (نجم، انشقاق اور علق) سجودِ تلاوت پر مشتمل ہیں، لہٰذا اس معاملے میں مالکیہ کی رائے درست نہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 2/ 162