🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. بَابُ رَاتِبَةِ الْعَصْرِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
عصر کی سنن رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2061
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے، جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2061]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1271، والترمذي: 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5980»

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1271
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2062
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعت پڑھتے اور ان میں سے ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنوں پر سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے۔ یعنی ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2062]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161، والترمذي: 424، 429، 599، والنسائي: 2/ 120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 650، 1375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1375»
وضاحت: فوائد: … عصر سے پہلے دو رکعتیں ادا کرنا بھی سنت ہے، اس کے کئی دلائل موجود ہیں، بعض کا تذکرہ اگلے ابواب میں بھی آئے گا۔

الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں