🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَذْكَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِرَاءَتِهِ وَدَعَوَاتِهِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ
رات کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: ( (اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبْرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ) ) ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ رَكَعَ وَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ وَكَانَ يَقُولُ: ( (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ) ) ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: ( (لِرَبِّيَ الْحَمْدُ، لِرَبِّيَ الْحَمْدُ) ) ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنَ قِيَامِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: ( (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى) ) ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَانَ مَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنَ السُّجُودِ، وَكَانَ يَقُولُ: ( (رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي) ) ، قَالَ حَتَّى قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ وَالْمَائِدَةَ أَوِ الْأَنْعَامَ، شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فِي الْمَائِدَةِ وَالْأَنْعَامِ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رات کی نماز پڑھی، جب آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ ذُوا الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ (اللہ سب سے بڑا ہے، جو بادشاہی، قہر، بڑائی اور عظمت والا ہے۔)، پھر آپ نے سورہ ٔ بقرہ کی تلاوت کی، اس کے بعد رکوع کیا اور آپ کا رکوع آپ کے قیام جتناتھا، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہتے رہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو آپ کا یہ قومہ آپ کے رکوع کے برابر تھا، آپ اس میں لِرَبِّیَ الْحَمْدُ لِرَبِّیَ الْحَمْدُ کہتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر تھا،آپ سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی، سُبْحَانَ رَبِیَ الْأَعَلٰی کہتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور جلسہ میں بیٹھ گئے، یہ جلسہ سجدے کے برابر تھا، اس جلسہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَبِّ اغْفِرْلِیْ رَبِّ اغْفِرْلِی کہتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز میں سورۂ بقرۃ، سورۂ آل عمران، سورۂ نساء اور سورۂ مائدہ یا سورۂ انعام کی تلاوت کر دی، آخری دو سورتوں میں راویٔ حدیث امام شعبہ کو شک ہوا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 874، والنسائي: 2/ 199، وأخرجه مسلم: 772 بسياق آخر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23261، 23375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23767»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 874
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2129
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ فَافْتَتَحَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً لَيْسَتْ بِالْخَفِيَّةِ وَلَا بِالرَّفِيعَةِ قِرَاءَةً حَسَنَةً يُرَتِّلُ فِيهَا يُسْمِعُنَا، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ هُوَ تَطَوُّعُ اللَّيْلِ
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تاکہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت نہ زیادہ آہستہ تھی اور نہ ہی زیادہ بلند تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر اور ہمیں سناتے ہوئے پڑھ رہے تھے، پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کے برابر تھا، …، اس کے بعد پہلی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، عبد الملک بن عمیر نے کہا: یہ رات کی نفل نماز تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي حذيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23803»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي حذيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2130
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَرَأَ السَّبْعَ الطُّوَلَ فِي سَبْعِ رَكَعَاتٍ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ) ) ، وَكَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ، وَسُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ كَادَتْ تَنْكَسِرُ رِجْلَاهُ
۔ (تیسری سند)میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قیام کیا، آپ نے سات رکعتوں میں سات لمبی سورتوں کی تلاوت کی، جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تھے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) کہتے، اس کے بعد یہ پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ذِی الْمَلَکُوتِ وَالْجَبَرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ اور آپ کارکوع آپ کے قیام کے برابر اور آپ کا سجدہ رکوع کے برابر تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو ایسا لگتا تھا کہ میری ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن عم حذيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23689»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن عم حذيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2131
عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَبِمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا وَيُهَلِّلُ عَشْرًا وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي عَشْرًا، وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّيقِ يَوْمَ الْحِسَابِ عَشْرًا
ربیعہ جرشی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو قیام کرتے تو کیا کہا کرتے تھے اور کس سے نماز شروع کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ دس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، دس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس دفعہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اور دس دفعہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، دس مرتبہ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ اور دس مرتبہ اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الضِّیْقِ یَوْمَ الْحِسَابِ کہتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد غير محفوظ۔ أخرجه ابوداود: 766، والنسائي: 3/ 208، وابن ماجه: 1346، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25615»
وضاحت: فوائد: … آخری دو جملوں کے معانییہ ہیں: اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے۔ اے اللہ! میں قیامت کے دن تنگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2132
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ وَيَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ) ) ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ) ) ، قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ) ) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هَمْزُهُ وَنَفْخُهُ وَنَفْثُهُ؟ قَالَ: ( (أَمَّا هَمْزُهُ فَهَٰذِهِ الْمُوْتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ بَنِي آدَمَ، وَأَمَّا نَفْخُهُ فَالْكِبْرُ، وَأَمَّا نَفْثُهُ فَالشِّعْرُ) )
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کوقیام کرتے تونماز کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور یہ دعاء پڑھتے: اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ، اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقَّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَاءَ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔ (اے اللہ! اے جبریل،میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے! غیب وحاضر کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اپنے حکم سے اس حق کی طرف میری راہنمائی کر جس میں اختلاف کیا گیا ہے، یقینا تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے) یحیی کہتے ہیں: سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کا قیام کرتے توکہتے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، شیطان مردود سے، یعنی اس کے جنون، تکبر اور شعروں سے) مزید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: شیطان مردود کے ھَمْز، نَفْخ اور نَفْث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز، نَفْخ اور نَفْث سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے ھَمْز سے مراد لوگوں کو لگنے والی مرگی ہے، اس کے نَفْخ سے مراد تکبر ہے اور نَفْث سے مراد شعر ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 770 الي قوله: صراط مستقيم۔ وما بعده حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف، عكرمة بن عمار روايته عن يحييٰ ضعيفة، وھو مرسل، وتفسير ھمزه ونفخه ونفثه مدرجة في الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25741»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ایک دعائے استفتاح اور ایک تعوذ کا بیان ہے۔ یہ تعوذ اس طرح بھی پڑھا جا سکتا ہے اور یہی الفاظ عام لوگوں کو یاد بھی ہیں: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔ (ابوداود: ۷۷۵، ترمذی: ۲۴۲) (میںاللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کی شر) سے، اس کے خطرے سے، اس کی پھونکوں سے اور اس کے وسوسے سے۔) یہ تعوذ بھی ثابت ہے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۵۸۹، الاوسط لابن المنذر: ۱۳۷۷) میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کے شر) سے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 770 الي قوله: صراط مستقيم۔ وما بعده حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2133
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو نماز کے لئے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ َومَنْ فِیْہِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌ، اَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْکَأَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ،أَنْتَ الَّذِیْ لَاإِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ (اے اللہ! تیرے لئے تعریف ہے، تو ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، تیرے لئے ہی ہرقسم کی تعریف ہے، تو ہی آسمانوں و زمین اور جو ان میں ہے، ان سب کا رب ہے، توحق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے،جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ تیرے لئے میں فرمانبردار ہوا، تیرے ساتھ میں ایمان لایا، تجھ پر میں نے توکل کیا، تیری طرف میں نے رجوع کیا ہے اور تیری توفیق سے میں نے جھگڑا کیا ہے اورتیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ہوں، تو میرے لیے میرے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے پہلے کیے، جو بعدمیں کیے، جو پوشیدہ طور پر کیے اور جو ظاہری طور پر کیے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔) [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1120، 6317، ومسلم: 769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2710، 3368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2710»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1120
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2134
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَمَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي) )
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے تو نماز میں یہ دعا کر رہے تھے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، اور میرےلئے میرا گھر وسیع کر دے اورمیرے لئے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عنایت کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حال عبيد بن القعقاع، وقد اختلف فيه علي شعبة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16716»

الحكم على الحديث:
المرفوع منه حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2135
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ؟ فَقَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ أَيَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، وَرُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ
عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنابت کی حالت میں سونا کیسے ہوتا تھا؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے؟ انہوں نے کہا: آپ اس طرح کرتے تھے کہ بسا اوقات غسل کر کے سو جاتے اور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے۔ میں نے ان سے پھر کہا: رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ کیا آپ بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بسا اوقات بآواز بلند قراءت کرتے تھے اور کبھی کبھار پست آواز میں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2135]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: بقصة الغسل من الجنابة: 307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25675»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تیرے پاس سے میرا گزر ہوا، تم بالکل پست آواز میں نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس ہستی کو تو سنا رہا تھا، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تیرے پاس سے میرا گزر ہوا، تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا: میں اونگھنے والے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر! تم اپنی آواز کو معمولی بلند کرو۔ اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز کو معمولی پست کرو۔ (ابوداود: ۱۳۲۹، ترمذی: ۴۴۷) معلوم ہوا کہ جب نمازی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو دھیمی آواز کے ساتھ تلاوت کیا کرے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: بقصة الغسل من الجنابة: 307
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2136
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ يَقْرَأُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْأَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ سَجَدَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری ہوگئے، تو جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور جب سورت کی تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور ان کی تلاوت کر کے پھر سجدہ کرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2136]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1148، ومسلم: 731، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24191، 24258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24695»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک ہی رکعت میں بیٹھنا اور پھر کھڑے ہو جانا درست ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1148
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2137
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کاقیام کرے، لیکن (نیند کے غلبے کی وجہ سے) اس کی زبان پر قرآن مشکل ہوجائے اور اسے یہ سمجھ بھی نہ آ رہی ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، تو وہ لیٹ جائے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8214»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ تو واضح ہے، لیکن اس نقطہ پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نماز کے اندر کتنی فکر مطلوب ہے، اگر ایک آدمی کو نیند تو نہ آ رہی ہو اور وہ نماز میں تلاوت بھی کر رہا ہو، لیکن سرے سے اس کی تلاوت اور کہے ہوئے اذکار پر کوئی توجہ نہ ہو تو یہ ایسا شخص ہو گا جس کا جسم جاگ رہا ہو گا اور روح سوئی ہوئی ہو گی۔ اس باب میں استفتاح کی بعض دعاؤں کا ذکر ہے، ان کے علاوہ احادیث سے اور دعائیں بھی ثابت ہیں، بعض کا ذکر نمازوں کے ابواب میں اس عنوان دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان میں گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 787
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں