الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ الصَّلَاةِ عَقِبَ الطُّهُورِ
وضو کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2278
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا بِلَالُ! حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ؟) ) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہا: اے بلال! مجھے اپنے سب سے امید والے عمل کے بارے میں بتاؤ، جو تیرے خیال کے مطابق اسلام میں بڑا نفع مند ہے، کیونکہ میں نے رات کو اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز جنت میں سنی تھی؟ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو میرے نزدیک اسلام میں نفع کے لحاظ سے سب سے زیادہ امید والا ہو،البتہ (یہ عمل ہے کہ) میں رات اور دن کی جس گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں، تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الضُّحَى/حدیث: 2278]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1149، ومسلم: 2458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8403، 9672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9670»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1149
حدیث نمبر: 2279
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: يَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ (فَذَكَرَ حَدِيثًا يَخْتَصُّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) وَقَالَ لِبِلَالٍ: ( (بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟) ) قَالَ: مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بِهَٰذَا) )
سیّدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب صبح کی توسیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایااور پوچھا: اے بلال! کس عمل کی وجہ سے تو جنت میں مجھ سے سبقت لے گیا، کیونکہ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے، گذشتہ رات بھی جب میں جنت میں داخل ہوا تو تیر ے قدموں کی آواز سنی تھی(پس راوی نے وہ حدیث ذکر کی جو سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کون سے عمل کی وجہ سے تو مجھ سے جنت میں سبقت لے گیا ہے؟ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا:میں جب بھی بے وضو ہوتاہوں تو وضو کرتا ہوں اورپھردو رکعتیں ادا کرتا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے (تو جنت میں مجھ سے بھی سبقت لے گیا)۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الضُّحَى/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه تاما ومختصرا الترمذي: 3689، وابن خزيمة: 1209، والحاكم: 3/ 285، 313، والبغوي: 1012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22996، 23040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23384»
وضاحت: فوائد: … ”عمر بن خطاب کے ساتھ خاص تھی۔“ یعنی اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب کے حوالہ سے بھی ایک خاص بات ارشاد فرمائی اور وہ یہ کہ آپ نے فرمایا جنت میں مجھے ایک بلند اور سونے کا بنا ہوا محل دکھایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے
الحكم على الحديث: صحيح لغيره