الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ أَفْضَلِ الْأَيَّامِ لِلسَّفَرِ وَتَوْدِيعِ الْمُسَافِرِ وَإِيصَالِهِ وَالدُّعَاءِ لَهُ
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے¤اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2292
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو تم کو کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی سفر میں اپنا کام پورا کر ے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2292]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1804، 3001، 5429، ومسلم: 1927، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7224»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1804
حدیث نمبر: 2293
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُسَافِرَ لَمْ يُسَافِرْ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ
سیّدنا کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کسی اور دن سفر (کا آغاز) نہ کرتے تھے [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2293]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، فقد تفرد بھا ابن لھيعة، وھو سييء الحفظ، ومثله لايحتمل تفرده، وھذا السياق الصحيح سيأتي في الحديث بالطريق الثاني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27720»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بغير ھذه السياقة
حدیث نمبر: 2294
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ
۔ (دوسری سند) سیّدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کم ہی نکلتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2294]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15873»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2949
حدیث نمبر: 2295
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوْصِنِي، قَالَ: ( (أُوْصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ) ) ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ کو کوئی وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی اور ہر اونچی جگہ پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتاہوں۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس شخص کے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت مختصر کر دے) اور اس پر سفر کو آسان کردے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2295]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2771، والترمذي: 3445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8310، 9724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10168»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 2296
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ قَالَ لَهُ: اُدْنُ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا فَيَقُولُ: ( (أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ) )
سالم بن عبد اللہ سے کہتے ہیں کہ میرے باپ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ لے کر آتا تو وہ کہتے: میرے قریب ہو جا، تاکہ میں تجھے اس طرح الوادع کہوں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں الوداع کہا کرتے تھے،پھر وہ کہتے: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد فيه وھم، أخرجه ابوداود: 2600، والترمذي: 3442، 3443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4524، 4957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4524»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 2297
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ قَزَعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ: تَعَالَ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ
(دوسری سند) قزعہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور کہا: ادھر آؤ تاکہ میں تم کو ایسے الوداع کہوں جیسے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی کام کو بھیجتے ہوئے الوداع کیا تھا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4957»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4957