🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ تَقْدِيمًا وَتَأْخِيرًا
فصل اول:ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2382
عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: كَانَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعَصْرُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَ الْظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا حَانَتِ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعِشَاءُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفر والی نماز کے بارے میں بیان نہ کروں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں پڑاؤ ڈالتے) اگر وہیں سورج ڈھل جاتا تو سوار ہونے سے پہلے ظہر و عصر کو جمع کر لیتے، اگر سورج کے ڈھلنے سے پہلے وہاں سے چل پڑتے تو سفر جاری رکھتے، حتی کہ عصر کا وقت ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترتے اور ظہر و عصر کو اکٹھا ادا کرتے۔ اسی طرح جب مغرب کا وقت (پڑاؤ والے) مقام میں ہی ہو جاتا تو مغرب و عشاء کو جمع کرلیتے اور اگر اس مقام پر مغرب کا وقت نہ ہوتا تو سوار ہو جاتے (اور چلتے رہتے) حتی کہ عشاء کا وقت ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترتے اور دونمازیں جمع کر کے ادا کرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2382]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف حسين بن عبد الله أخرجه الترمذي كما في ’’تحفة الاشراف‘‘: 5/ 120، والطبراني: 11522، والبيھقي: 3/ 164، والدارقطني: 1/ 388، وعبد الرزاق: 4405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3480»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں