🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. الْفَضْلُ الأول: فِيْمَا رُوِى فِعْلُهَا فِي السَّفَرِ
فصل اول: سفر میں ان کی ادائیگی کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2409
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا وَلَيْسَ بَعْدَهَا شَيْءٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ أَرْبَعًا، وَصَلَّى فِي الْسَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَعْدَهَا شَيْءٌ، وَالْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر وحضر میں نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر میں ظہر کی نماز چار رکعات پڑھی اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں ادا کیں، نماز عصر چار رکعات ادا کی او راس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، نمازمغرب کی تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں اور عشاء کی چار رکعات پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں ظہردو اور اس کے بعد بھی دو رکعات پڑھیں، عصر کی نماز دو رکعات ادا کیں اور اس کے بعد مزید کوئی نماز نہیں پڑھی، نماز مغرب کی تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو اور اس کے بعد مزید دو رکعات پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2409]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العوفي ومتابعة نافع لا تشدّه فان الراوي عن نافع، وھو ابن ابي ليلي، ضعيف لسوء حفظه أخرجه الترمذي: 551، 552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5634»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العوفي ومتابعة نافع لا تشدّه فان الراوي عن نافع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2410
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسًا، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَطَاوُسٌ يَسْمَعُ: حَدَّثَنَا طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَكَمَا تُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا فَصَلِّ فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: وَصَلِّهَا فِي السَّفَرِ
اسامہ بن زید کہتے ہیں: میں نے طاؤس سے سفر میں نفل نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا، جبکہ حسن بن مسلم بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، توحسن بن مسلم نے کہا اور طاؤس سن رہے تھے، کہ ہمیں طاؤس نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر و سفر کی نماز فرض کی ہے، اس لیے جس طرح توحضر میں فرض نمازسے پہلے اور بعد میں (نفلی) نماز پڑھتا ہے، اسی طرح سفر میں بھی پہلے اور بعد والی (سنتیں) پڑھا کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2064»

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1072
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2411
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَلَمْ أَرَهُ تَرَكَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفر کئے،میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر سے پہلی دو رکعتیں ترک کی ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة أبي بسرة الغفاري، فقد تفرد بالرواية عنه صفوان بن سليم، قال الذھبي: لايعرف، ولم يؤثر توثيقه عن غير العجلي وابن حبان أخرجه ابوداود: 1222، والترمذي: 550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18784»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة أبي بسرة الغفاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں