🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ لِمَرَضٍ أَوْ نَحْوِهِ يُصَلِّي كَيْفَمَا يَسْتَطِيعُ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْقَائِمِ
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2416
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ: اُكْتُبُوا لِعَبْدِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ مَا كَانَ فِي وَثَاقِي) )
سیّدناعبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے جس کو بھی کوئی جسمانی تکلیف لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرنے والے فرشتوں سے کہتا ہے: میرا بندہ دن اور رات میں خیر و بھلائی کے جو کام کرتا تھا، تم وہ لکھتے جاؤ، جب تک یہ میری بندھن میں رہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 230، والدارمي: 2/ 316، والبخاري في ’’الادب المفرد‘‘: 500، والحاكم: 1/ 348، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 9929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6482»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 230
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2417
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بِيَ النَّاصُورُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: ( (صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ) )
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے ناسور کی بیماری تھی، اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز کے بارے میں سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھ، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھ کر بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لیا کر۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1117، وابوداود: 952، وابن ماجه: 1223، والترمذي: 372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20057»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1117
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: ( (إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً، فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے، آپ کی دائیں جانب زخمی ہو گئی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عیادت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی (آپ کی اقتداء میں) نماز بیٹھ کر پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز پوری کی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو،جب وہ رکوع کرے، تب تم رکوع کرو، جب وہ سجدہ کرے تب تم سجدہ کرو، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے، تو تم رَبَّنَا وَلکَ الْحَمْدُ کہو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2418]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 805، 1114، ومسلم: 441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12098»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 805
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2419
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ( (إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَلَا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهِمْ) )
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کا جوڑ اتر گیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمارداری کرنے کے لیے آپ کے پاس گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بیٹھ کر) نماز پڑھ رہے تھے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگ گئے، جبکہ ہم کھڑے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے اگر وہ کھڑا ہو کر نمازپڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، جب وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ ہوا کرو، جیسے فارسی لوگ اپنے بڑوں (کی تعظیم کرتے ہوئے ان) کے ساتھ کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2419]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم أخرجه مسلم: 413، ابوداود: 602، 606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14205، 14590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14254»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم أخرجه مسلم: 413
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2420
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فِي مَرَضِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ( (إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے دوران لوگ آپ عیادت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، جبکہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تب تم رکوع کرو، جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم رکوع سے سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2420]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5658، ومسلم: 412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24754»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5658
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2421
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بُرْدٌ مُتَوَشِّحٌ بِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری نماز اس حال میں پڑھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دھاری دار چادر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے توشیح کر رکھی تھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الضياء في ’’المختارة‘‘: 1966، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13293»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الضياء في ’’المختارة‘‘: 1966
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2422
عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ الْمَرِيضِ، فَقَالَ: يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ قَاعِدًا فِي الْمَكْتُوبَةِ
مختار بن فلفل نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مریض کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: (مریض آدمی) فرض نماز میں بیٹھ کر رکوع و سجود کرے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12301»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12301
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2423
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ( (مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ) ) ، قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ) ) ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابوبکربڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسف علیہ السلام کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابوعوانة: 2/ 136، وھو حديث طويل وأخرجه ابوداود: 624 دون اللفظة المذكورة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12276)(2423) أخرجه البخاري: 3384، ومسلم: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24061، 25258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25772»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابوعوانة: 2/ 136
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2424
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ) ) ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ أَبِي رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ
سیّدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! بے شک میرے ابو جان تو بڑے نرم دل آدمی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، تم بھی یوسف کی صاحبات ہو۔“ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو امامت کروائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ تھے۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ السَّفَرِ وَآدَابِهِ وَأَذْكَارِهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن عن ابن بريدة عن ابيه خطأ من الامام احمد او من دونه والصحيح ما في رواية ابي عوانةأخرجه ابوعوانة في ’’صحيحه‘‘: 1653 عن ابي بردة، وھو ابن ابي موسي الاشعري، عن ابيه ابي موسي الاشعري عبد الله بن قيس، وھو الصحيح،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23448»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں