🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابٌ فِي آدَابٍ تَتَعَلَّقُ بِخُرُوجِهِنَّ وَصَلَاتِهِنَّ فِي الْمَسْجِدِ
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2505
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ الثَّقَفِيَّةُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: ( (إِذَا خَرَجَتْ إِحْدَاكُنَّ إِلَى الْعِشَاءِ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا) )
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: جب تم میں سے کوئی عشاء کے لیے جائے تو وہ خوشبو نہ لگائے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2505]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27046، 27047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27587»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 443
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2506
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَدَاةَ ثُمَّ يَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لَا يُعْرَفْنَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتی تھیں، جب وہ واپس جاتیں تو اپنی چادروں میں اس قدر لپٹی ہوتی تھیں کہ ان کو پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2506]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 372، ومسلم: 645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24051، 24096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24552»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 372
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2507
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نِسَاءً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ وَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: بے شک مؤمن عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں تھیں، وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، جب وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی بھی ان کو پہچان نہیں سکتا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2507]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24597»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24597
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2508
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ ذَوِي حَاجَةٍ يَأْتَزِرُونَ بِهَٰذِهِ النَّمِرَةِ فَكَانَتْ إِنَّمَا تَبْلُغُ أَنْصَافَ سُوقِهِمْ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يَعْنِي النِّسَاءَ فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى نَرْفَعَ رُؤُوسَنَا كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ صِغَرِ أُزُرِهِمْ) )
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ چونکہ مسلمان حاجت مند تھے، اس لیے وہ اس قسم کی (چھوٹی سی) دھاری دار چادر کا ازار باندھ لیتے تھے، جو تقریبا ان کی نصف پنڈلیوں تک پہنچتی تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، وہ اس وقت تک (سجدے سے) سر نہ اٹھائے جب تک ہم مرد لوگ اپنے سر نہ اٹھا لیں، (اس حکم کی یہ وجہ تھی کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ناپسند تھا کہ عورتوں کی نگاہ مردوں کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں پر پڑ جائے گی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2508]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 851، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26947، 26948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27487»

الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 851
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2509
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ عَلَى رِقَابِهِمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ، فَيُقَالُ لِلنِّسَاءِ: لَا تَرْفَعْنَ رُؤُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا
سیّدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مرد حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، انھوں نے بچوں کی طرح اپنے ازار گردنوں پر باندھے ہوئے ہوتے تھے، اس لیے عورتوں کو کہا جاتا کہ وہ (سجدوں سے) سروں کو نہ اٹھایا کریں، جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2509]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 362، 814، 1215، ومسلم: 441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15562، 22810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23198»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 362
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2510
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جب عورتیں فرض نمازوں سے سلام پھیرتیں تو (واپسی کے لیے) اٹھ کھڑی ہوتیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد حضرات، جب تک اللہ چاہتا، بیٹھے رہتے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو وہ سارے کھڑے ہوجاتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2510]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 866، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27223»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 866
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں