🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. بَابُ مَا يَفْعَلُ الْمَسْبُوقُ
جس سے کچھ نماز رہ گئی ہو، وہ کیا کرے؟ اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2691
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُبِقَ الرَّجُلُ بِبَعْضِ صَلَاتِهِ سَأَلَهُمْ فَأَوْمَأُوا إِلَيْهِ بِالَّذِي سُبِقَ بِهِ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَبْدَأُ فَيَقْضِي مَا سُبِقَ ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَجَاءَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلِ وَالْقَوْمُ قُعُودٌ فِي صَلَاتِهِمْ فَقَعَدَ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا كَانَ سُبِقَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اصْنَعُوا كَمَا صَنَعَ مُعَاذٌ) )
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جب کسی آدمی سے کچھ نماز رہ جاتی تو وہ آکر (پہلے والے نمازیوں)سے سوال کر لیتا (کہ کتنی رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں)، وہ اس کو اشارے سے بتا دیتے، پھر وہ شروع ہوتا اور پہلے اُتنی رکعتیں پڑھ کر پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاتا۔ ایک دن یوں ہوا کہ میں (معاذ) آیا اور لوگ نماز (کے تشہد) میں بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی بیٹھ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو میں کھڑا ہوا جو (رکعتیں) رہ گئی تھیں، وہ پڑھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس طرح معاذ نے کیا ہے تم بھی (آئندہ) ایسے ہی کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2691]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، غير أن ابن ابي ليلي لم يسمع من معاذ أخرجه مطولا ابوداود: 506، وأخرجه الترمذي بلفظ: قال رسول الله V: اذا اتي احدكم الصلاة والامام علي حال فليصنع كما يصنع الامام۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22033، 22124) ابوداود كي طويل حديث كو امام الباني k نے صحيح كها۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22383»

الحكم على الحديث: رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2692
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: تَخَلَّفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَمَعِي الْإِدَاوَةُ قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَنْثَرَ قَالَ يَعْقُوبُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَغْسِلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُخْرِجَهُمَا مِنْ كُمِّ جُبَّتِهِ، فَضَاقَ عَنْهُ كُمُّهَا فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنَ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَمَسَحَ بِخُفَّيْهِ وَلَمْ يَنْزَعْهُمَا، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى النَّاسِ فَوَجَدَهُمْ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَى بِصَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: ( (أَحْسَنْتُمْ وَأَصَبْتُمْ) ) يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر میری طرف لوٹے، میرے پاس ایک چھوٹا سا برتن تھا، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں پر پانی بہایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی ڈال کر ناک صاف کیا، یعقوب راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلی کی، اس کے بعد چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبّہ کی آستینوں سے ہاتھ نکالے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بازوؤں کو دھونا چاہا، لیکن آستینیں تنگ تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھوں کو جبہ (کے اندر) سے نکال کر پہلے تین دفعہ دایاں اور پھر تین دفعہ بایاں ہاتھ دھویا، پھر موزوں کا مسح کیا اور ان کو نہ اتارا، پھر وہ دونوں لوگوں کی طرف آئے، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر دیا تھا، وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پا لی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے اور کثرت سے تسبیح بیان کی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو ان پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا ہے اور درست کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام سے رشک کر رہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اول وقت میں ادا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه أحمد في ’’مسنده‘‘ مطولا ومختصرا في عدّة أماكن، ولم نحط تخريجه ھنا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18134) أخرجه البخاري بذكر الوضوئ: 388، 2918، 5798، وأخرجه مختصرا من رواية احمد مسلم: 274، وأخرجه ابوداود: 149، وأخرجه بعضه ابن ماجه: 1236، والنسائي: 1/76، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18172، 18175، 18190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18359»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه أحمد في ’’مسنده‘‘ مطولا ومختصرا في عدّة أماكن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2693
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ الْمُغِيرَةُ:) ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُؤْذِنَهُ فَنَهَانِي (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا (وَفِي لَفْظٍ) فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا
(دوسری سند، سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:)پھر ہم لوگوں کو جا ملے اور دیکھا کہ نماز کھڑی کردی گئی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کی امامت کرا رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے، میں ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بتانے کے لیے جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کردیا، پس ہم نے جتنی نماز پالی اس کو پڑھا اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: جس رکعت کو ہم نے پالیا اس کو پڑھ لیا اور جو رکعت رہ گئی تھی، اس کو (بعد میں) پورا کرلیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18347»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2694
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ أَيْضًا وَفِيهِ قَالَ الْمُغِيرَةُ) فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ وَقَالَ: ( (قَدْ أَحْسَنْتَ كَذَلِكَ فَافْعَلْ) )
(تیسری سند، اسی طرح حدیث مروی ہے، اس کے مطابق سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:)پس جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کو ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محسوس کیا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ نماز کو پورا کریں اور (بعد میں) فرمایا: تونے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 2694]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18356»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18356
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں