🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ وَهَلْ تَكُونُ سِرًّا أَوْ جَهْرًا
نمازِ کسوف میں قراء ت اور اس کے جہری یا سرّی ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2892
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكُسُوفَ (وَفِي لَفْظٍ صَلَاةَ الْخُسُوفِ) فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی، میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 2892]
تخریج الحدیث: «حسن، روي عبد الله بن المبارك عن عبد الله بن لھيعة في رواية أخرجه أبويعلي: 2745، والطحاوي: 1/ 332، والبيھقي: 3/ 335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2673»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2893
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، فَقَالَ: فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ
سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ کسوف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اتنا لمبا قیام کروایا کہ کسی نماز میں بھی اتنا لمبا قیام نہیں کروایا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی طویل رکوع کیا، اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں بھی نہیں کیا تھا، اس میں بھی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سنی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 2893]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ثعلبة بن عباد، ولبعضه شواھد أخرجه مطوّلا ومختصرا ابوداود: 1184، والنسائي: 3/ 140، وابن ماجه: 1264، والترمذي: 562، وابن ابي شيبة: 2/ 469، وابن خزيمة: 1397، وابن حبان: 2852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20160، 20178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20440»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة ثعلبة بن عباد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلَّى فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) ) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ …) ) الْحَدِيثِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیاتھا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کی)، لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت کی اور جہری قراءت کی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیااور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور طویل قراءت کی، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور (نماز سے فارغ ہو کر) فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے …۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطوّلا ومختصرا البخاري: 1046، 1212، ومسلم: 901، وابوداود: 1180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24977»

الحكم على الحديث: أخرجه مطوّلا ومختصرا البخاري: 1046
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں