الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ نَوْعٍ ثَانٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً وَقَضَاءِ كُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً
نماز خوف کی دوسری صورت¤امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
حدیث نمبر: 2953
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامُوا صَفَّيْنِ، فَقَامَ صَفٌّ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلُ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلُوهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامُوا فَذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، لوگ دو صفیں بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئی اور دوسری دشمن کے مدمقابل رہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ والی صف کو ایک رکعت پڑھائی۔ اس کے بعد یہ لوگ دشمن کے سامنے چلے گئے اور دوسری صف والے ان کے مقام پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو اِن لوگوں نے اٹھ کر ایک ایک رکعت پڑھی اور پھر سلام پھیر کر میدان میں دشمن کے سامنے چلے گئے،وہ لوگ (جائے نماز کی طرف) لوٹے اور آ کر ایک ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَهِيَ أَنْوَاعٌ/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد منقطع، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبد الله بن مسعود أخرجه أبوداود: 1244، 1245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3561»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2954
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو نماز خوف ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل رہا، پہلا گروہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا گیا اور دوسرے گروہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک رکعت پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو اِن لوگوں نے اور اُن لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کر لی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَهِيَ أَنْوَاعٌ/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 942، 4132، 4133، ومسلم: 839، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6351، 6378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6351»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 942
حدیث نمبر: 2955
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ صَلَّاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ وَرَاءَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، سَجَدَ مِثْلَ نِصْفِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ فَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَصَلَّى لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی۔ (اس کی تفصیل یہ تھی:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، ہم میں سے ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنا کر (نماز شروع کر دی) اور ایک گروہ دشمن پر متوجہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکوع اور دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، یہ رکعت نمازِ فجر کے نصف کے برابر تھی، پھر یہ لوگ پھر گئے اور دشمن کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے، پھر دوسرا گروہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح ایک رکعت پڑھائی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو دو گروہوں میں سے ہر بندہ کھڑا ہوا اور علیحدہ علیحدہ دوسجدوں سمیت ایک ایک رکعت ادا کر لی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَهِيَ أَنْوَاعٌ/حدیث: 2955]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6377»
وضاحت: فوائد: … اس روایت سے یہ تو معلوم ہو رہا ہے کہ یہ فجر کی نماز نہیں تھی اور صحیح بخاری کی روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ نمازِ عصر تھی۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6377
حدیث نمبر: 2956
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
(تیسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نجد کی جانب ایک غزوہ میں شرکت کی، پس ہم دشمن کے سامنے آگئے …۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَهِيَ أَنْوَاعٌ/حدیث: 2956]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6378»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے نماز خوف کا یہ طریقہ ثابت ہوا کہ امام، لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرے، ایک گروہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اور دوسرا دشمن کے سامنے کھڑا رہے، پہلی رکعت کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے کی جگہ پر آجائیں، پھر جب امام سلام پھیرے تو یہ ایک ایک رکعت ادا کر لیں۔ یہ کیفیت اس وقت ہو گی، جب دشمن قبلہ کی سمت میں نہیں ہو گا۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6378