الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ فِي أُمُورٍ تَتَعَلَّقُ بِالْأَرْوَاحِ
روح سے متعلقہ مسائل
حدیث نمبر: 3030
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ (يَعْنِي الشَّافِعِيَّ) عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ) )
سیّدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی روح ایک پرندہ ہوتی ہے، جو جنت کے درختوں سے کھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جس دن اسے اٹھانا ہو گا، اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3030]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1449، 4271، والنسائي: 4/ 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15776، 15778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15870»
وضاحت: فوائد: … اگر ”یَعْلَقُ“ پڑھیں تو اس کا معنی ”درخت سے لٹکنے “ کے ہیں۔ لیکن پہلا معنی زیادہ درست ہے، کیونکہ اس باب کے فوائد میں مذکورہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چگنے کی وضاحت کی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1449
حدیث نمبر: 3031
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ (يَعْنِي الشَّافِعِيَّ) عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ) )
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے سیّدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، سے کہا: میرے بیٹے مبشر کو میرا سلام پہنچا دینا۔ سیّدناکعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ام مبشر! اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے، کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: مسلمان کی روح ایک پرندہ ہوتی ہے، جنت کے درختوں سے کھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس کے جسم میں لوٹا دے گا۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، پس میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتی ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3031]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 3030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15870»
وضاحت: فوائد: … حقیقت یہ ہے کہ اچھے مقام میں جمع ہونے والی روحوں کا آپس تعارف ہوتا ہے اور وہ دنیا والوں کے بارے میں باتیں بھی کرتی ہیں، اگلی اور فوائد میں دی گئی روایات سے ایسے ہی ثابت ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 3030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15870
حدیث نمبر: 3032
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ تَلْتَقِي عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمٍ مَا رَأَى أَحَدُهُمْ صَاحِبَهُ قَطُّ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومنوں کی روحیں ایک دن کے فاصلہ پر جا کر دوسری روح سے ملتی ہیں، اگرچہ دنیا میں انہوں نے ایک دوسرے کو کبھی بھی نہ دیکھا ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3032]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، ابن لھيعة قد توبع، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6636»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 3033
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ( (إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ لَتَلْقَيانِ عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا رَأَى وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ) )
(دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومنوں کی روحیں ایک دن، رات کے فاصلہ پر ایک دوسری کو جا کر ملتی ہیں، جبکہ انہوں نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہوتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3033]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7048»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7048
حدیث نمبر: 3034
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يَمُوتُ فَقُلْتُ: أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّيَ السَّلَامَ
محمد بن منکدر کہتے ہیں: میں سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا،جبکہ ان کی وفات کا وقت قریب تھا، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کر دینا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح الاسناد۔ أخرجه ابن ماجه: 1450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19711»
الحكم على الحديث:
اثر صحيح الاسناد۔ أخرجه ابن ماجه: 1450
حدیث نمبر: 3035
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنَ الْأَمْوَاتِ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا اسْتَبْشَرُوا بِهِ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالُوا: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اعمال، تمہارے فوت شدہ رشتہ داروں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اگر اعمال اچھے ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور اگر اچھے نہ ہوں تو وہ کہتے ہیں: اے اللہ! ان لوگوں کو اس قت تک موت نہ دینا، جب تو ان کو اس طرح ہدایت نہ دے دے، جس طرح تو نے ہم کو ہدایت دی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3035]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الواسطة بين سفيان و انس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12713»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الواسطة بين سفيان و انس
حدیث نمبر: 3036
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَنَتَزَاوَرُ إِذَا مُتْنَا وَيَرَى بَعْضُنَا بَعْضًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَكُونُ النَّسَمُ طَيْرًا تَعْلُقُ بِالشَّجَرِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَخَلَتْ كُلُّ نَفْسٍ فِي جَسَدِهَا) )
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ جب ہم مرجائیں گے تو کیا ہم ایک دوسرے کو ملیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام روحوں کو پرندوں کی شکل دے دی جاتی ہے، پھر وہ درختوں سے کھاتی رہتی ہیں، جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر روح اپنے جسم میں داخل ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3036]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد فيه ابن لھيعة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 5/ 330، وابن سعد: 8/ 460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27931»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3037
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ الْمَيِّتَ يَعْرِفُ مَنْ يَحْمِلُهُ وَمَنْ يُغَسِّلُهُ وَمَنْ يُدْلِي بِهِ فِي قَبْرِهِ) )
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ میت کو اٹھاتے ہیں، اسے غسل دیتے ہیں اور اسے قبر میں اتارتے ہیں، میت ان سب کو پہچانتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3037]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي سعيد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11010»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ یَنْزِلُ بِہِ الْمَوْتُ وَیُعَایِنُ مَا یُعَایِنُ، فَوَدَّ لَوْخَرَجَتْ۔یَعْنِيْ نَفْسَہُ۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ لِقَائَہٗ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ یُصْعَدُ بِرُوْحِہٖ إِلَی السَّمَائِ فَتَأْتِیْہِ أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِیْنَ فَیَسْتَخْبِرُوْنَہٗ عَنْ مَعَارِفِھِمْ مِنْ أَھْلِ الْاَرْضِ، فَإِذَا قَالَ: تَرَکْتُ فُلَانًا فِيْ الدُّنْیَا أَعْجَبَھُمْ ذٰلِکَ، وَإِذَا قَالَ: إِنَّ فُلَانًا قَدْ مَاتَ، قَالُوْا: مَاجِيْئَ بِہِ إِلَیْنَا، …۔)) (مسند البزار: ص۹۲ـ زوائدہ، الصحیحۃ: ۲۶۲۸) یعنی: ”جب مؤمن پر عالمِ نزع طاری ہوتا ہے تو وہ مختلف حقائق کا مشاہدہ کر کے یہ پسند کرتا ہے کہ اب اس کی روح نکل جائے (تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر سکے) اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتے ہیں۔ مؤمن کی روح آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے اور (فوت شدگان) مؤمنوںکی ارواح کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ وہ اس سے اپنے جاننے پہچاننے والوں کے بارے میں دریافت کرتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي سعيد