🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ وَالرُّخْصَةِ فِي تَقْبِيلِهِ
میت کو ڈھانپنے اور اسے بوسہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3042
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3042]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5814، ومسلم: 942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25088»
وضاحت: فوائد: … موت کے بعد میت کو ڈھانپ دینے پر اہل علم کا اجماع ہے، اس میں میت کا احترام بھی ہے اور اس کی بے پردگی ہونے سے حفاظت بھی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5814
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3043
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: أَبِي وَأُمِّي! وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي قَدْ كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دھاری دار یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور رو پڑے۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی بھی دوموتیں جمع نہیں کرے گا،جو موت آپ پر لکھی گئی تھی وہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4452، 4453، 5814، ومسلم: 942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24581، 24863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25375»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4452
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3044
عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ، وَهُوَ مَيِّتٌ، حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا، جبکہ وہ میت تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو ان کے چہرے پر بہنے لگے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3044]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله،وقد اضطرب فيه أخرجه ابوداود: 3163، والترمذي: 989، وابن ماجه: 1456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24165، 25712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24666»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3045
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَتْ: فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ أَوْ قَالَ وَهُوَ يَبْكِي
(دوسری سند)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا، جب کہ وہ میت تھے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو عثمان کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ عبد الرحمن نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بہہ رہی تھیں، یا کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26231»
وضاحت: فوائد: … اس سلسلے میں صرف سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دینا ثابت ہے، اہل علم نے کہا ہے کہ چونکہ کسی صحابی نے ان پر انکار نہیں کیا، اس لیے اس کو اجماعِ صحابہ سمجھا جائے گا۔ ویسے بھی یہ ایک معاملہ ہے، نہ کہ عبادت، اس لیے اگر کسی نص میں اس کی نفی نہیں کی گئی تو اس کو جائز ہی سمجھا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26231
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں