🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا وَرَدَ مِنَ التَّغْلِيظِ فِي النِّيَاحَةِ وَالنَّائِحَةِ وَالْمُسْتَمِعَةِ
نوحہ کرنے، نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی کے حق میں ثابت ہونے والی سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى نَائِحَةٍ وَلَا عَلَى مُرِنَّةٍ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نوحہ کرنے والی اور بلند آواز سے رونے والی عورت کے لیے رحمت کی دعا نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3056]
تخریج الحدیث: «اسناده قابل للتحسين أخرجه الطيالسي: 2457، وابو يعلي: 6137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8731»

الحكم على الحديث:
اسناده قابل للتحسين أخرجه الطيالسي: 2457
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3057
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3057]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن عطية وأبوه وجده ضعفاء أخرجه ابوداود: 3128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11645»
وضاحت: فوائد: … لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کے ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3058
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا: النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت کے دو کام ہیں، لوگ ان کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا اور نسب پر طعن کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3058]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري في ’’الادب المفرد‘‘: 395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9571»
وضاحت: فوائد: … نسب پر طعن کرنے سے مراد آدمی کا اپنے آپ کو غیر باپ کی طرف منسوب کرنا ہے، یا کسی کو اس کے باپ، ماں یا برادری کی بنا پر طعنہ مارنا کہ وہ تو فلاں کمینے باپ کا بیٹا ہے یا اس کا تعلق تو فلاں گھٹیا برادری سے ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البخاري في ’’الادب المفرد‘‘: 395
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3059
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُتْرَكْنَ، الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ، وَالنَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ أَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ) )
سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار امورِ جاہلیت ہیں،لیکن ان کو چھوڑا نہیں جائے گا: حسب پر فخر کرنا، نسب پر طعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اورنوحہ کرنا۔ نوحہ کرنے والی عورت اگر وفات سے پہلے توبہ نہیں کر لیتی تو اسے اس حال میں قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول یا خارش کی قمیص ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3059]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23291»
وضاحت: فوائد: … ”حسب پر فخر کرنا“ اس سے مراد یہ ہے کہ آباء و اجداد کے مناقب بیان کر کے اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنا اور غرور اور تکبر کرتے ہوئے یہ کہنا کہ میں فلاں عالم، فلاں بہادر، فلاں ڈاکٹر یا فلاں مالدار کا بیٹا ہوں۔ اس میں کمال کسی کا ہوتا ہے اور بڑائی کوئی کر رہا ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اگر کسی کا دادا بڑا انسان تھا تو اس میں پوتے کا کیا کمال ہے، اسے چاہیے کہ اپنے اندر اس قسم کی صلاحیتیں پیدا کرے اور عاجزی و انکساری سے زندگی گزارے۔ نسب پر طعن کرنا اور حسب پر فخر کرنا، دونوں نحوستیں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں، ان کے ذریعے نااہل اور جاہل لوگ اپنے بڑے پن کو ثابت کر کے مطمئن رہنا چاہتے ہیں، ایک دن میں نے اچھے بھلے لکھے پڑے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جن کے ماموں کو فلاں نواب نے اس کرسی یا مقام پر بٹھایا تھا، جہاں آصف علی زرداری کو بٹھایا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ زرداری عام مالدار آدمی تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کو زرداری کی سیٹ پر بٹھا دیا جائے تو اس سے بیٹھنے والے کو کتنی عظمت ملی، یہ فیصلہ تو منصف حضرات سے کروانا پڑے گا، بھلا بھانجوں کو اس پر اترانے کا کیا حق حاصل ہے۔ ”تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا“ ہم ”ابواب الاستسقائ“ کے آخر میں اس پر بحث کر آئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3060
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ فِي أُمَّتِي أَرْبَعًا مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَيْسُوا بِتَارِكِيهِنَّ: الْفَخْرُ بِالْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ فَإِنَّهَا تَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا دِرْعٌ مِنْ لَهَبِ النَّارِ) )
(دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں، جنہیں وہ ترک نہیں کریں گے:حسب پر فخر کرنا، نسب پرطعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔ نیز فرمایا: اگر نوحہ کرنے والی عورت نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن اس طرح کھڑی ہو گی کہ اس پر تارکول کے کرتے ہوں گے پھر ان پر آگ کے شعلوں کی قمیص چڑھا دی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3060]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23292»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23292
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں