الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأِحْدَادِ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر سوگ منانے کا بیان
حدیث نمبر: 3089
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: ( (لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا) )
زوجۂ رسول سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے سناکہ جس عورت کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے، ماسوائے خاوند کے، کہ اس کے لیے چار ماہ دس دن (سوگ ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3089]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1282، ومسلم: 1487، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27290»
وضاحت: فوائد: … سوگ میں خاتون کو زینت ترک کرنا پڑتی ہے، آنے والی چوتھی حدیث اور اس کے فوائد میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1282
حدیث نمبر: 3090
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ: إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِشَيْءٍ سَمِعْتُ (وَفِي رِوَايَةٍ: لِأَنَّ) رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةً وَعَشْرًا) )
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا، انہوں نے خوشبو منگوا کر بازوؤں پر لگائی اور کہا:میں نے خاص وجہ کی بنا پر ایسے کیا اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے، ماسوائے خاوند کے، کہ اس کے لیے چار ماہ دس دن (سوگ ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3090]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5339، ومسلم: 1486، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27302»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5339
حدیث نمبر: 3091
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے، ماسوائے خاوند کے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3091]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم أخرجه عن عائشة مسلم:1491، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24092، 26454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26986»
الحكم على الحديث:
اسناده علي شرط مسلم أخرجه عن عائشة مسلم:1491
حدیث نمبر: 3092
وَعَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلُهُ (وَزَادَتْ بَعْدَ"إِلَّا عَلَى زَوْجٍ": ( (فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا) )
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ إِلَّا زَوْجٍ کے الفاظ کے بعد یہ الفاظ ہیں: پس وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3092]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26985»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1490
حدیث نمبر: 3093
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُحِدَّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا عَصْبًا، وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا نُبَذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ) )
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ نہ منائے، سوائے خاوند پر، اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی، اس دوران وہ رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے،لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے، سرمہ نہ لگائے، خوشبو استعمال نہ کرے، مگر جب ایام حیض سے پاک ہو تو تب تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو استعمال کر لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3093]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5342، ومسلم: ص 1128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21075»
وضاحت: فوائد: … سنن ابوداود اور سنن نسائی کی روایت میں ((وَلَاتَخْتَضِبْ)) (اور مہندی نہ لگائے) اور سنن نسائی کی روایت میں ((وَلَا تَمْتَشِطْ)) (اور کنگھی بھی نہ کرے۔) کے الفاظ کی زیادتی ہے۔ اس حدیث میں سوگ منانے والی خاتون کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ ”لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے۔“ اس سے مراد وہ کپڑا ہے جس کی بنائی ہی رنگین دھاگوں سے کی گئی ہو۔ آج کل عام طور پر خواتین ان شرائط کی قطعی طور پر کوئی لحاظ نہیں کرتی، جبکہ اس معاملے میں درج ذیل حدیث سے سختی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5342
حدیث نمبر: 3094
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ مِنْ قَتْلِ جَعْفَرٍ، فَقَالَ: ( (لَا تُحِدِّي بَعْدَ يَوْمِكِ هَذَا) )
سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیّدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تیسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد سوگ نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3094]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث اختلف في وصله وارساله، وارسالُه اصح، لكن صححه الامام احمد وقال ابن حجر: قوي الاسناد۔ أخرجه ابن حبان: 3148، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 369، والبيھقي: 7/ 438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27083، 27468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27623»
الحكم على الحديث:
ھذا حديث اختلف في وصله وارساله
حدیث نمبر: 3095
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (قُومِي الْبَسِي ثَوْبَ الْحِدَادِ ثَلَاثًا، ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ) ) ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَكَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ مِثْلَهُ
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: جب سیّدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا سانحہ پیش آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا، اٹھو! تین دن کے لیے سوگ کا لباس پہن لو، اس کے بعد جو چاہو کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3095]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28015»
وضاحت: فوائد: … سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بالاتفاق سیّدنا جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ لیکن سابقہ احادیث میں بیوی کو چار ماہ دس دن سوگ میں رہنے کا حکم دیا گیا اور اس حدیث میں صرف تین دن کا، اس تضاد کو کیسے دور کیا جائے؟ یا اس کی کیا وجہ ہے؟ مختلف شارحین نے مختلف جوابات دیئے ہیں:
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28015